رسائی کے لنکس

logo-print

کیا سپر لیگ کے تمام میچ پاکستان میں ہو سکیں گے؟


پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن فائیو کے تمام میچ پاکستان میں کرانے کے فیصلے پر ٹیم مالکان اور فرنچائزز کے تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔

ٹیم مالکان اور فرنچائزز کے تحفظات پر مذاکرات کے لیے پی سی بی نے اہم اجلاس پیر کو لاہور میں طلب کرلیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی سی بی کے پیٹرن ان چیف وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پچھلے پی ایس ایل کے فوری بعد یہ اعلان کیا تھا کہ سیزن فائیو کے تمام میچز پاکستان میں ہی ہوں گے لیکن ٹیم مالکان اور فرنچائز کا موقف ہے کہ ایسا کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔

سیزن فائیو کب ہو گا؟

پی ایس ایل کا سیزن فائیو ممکنہ طور پر اگلے سال 20 فروری کو شروع ہو گا جب کہ فائنل 22 مارچ کو کھیلا جائے گا۔

پاکستانی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پی سی بی کی طرف سے تاریخوں کا حتمی اعلان اور اس حوالے سے کی جانے والی مکمل منصوبہ بندی سے متعلق اعلان نومبر کے اوائل میں ہو گا۔

اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس بار فائنل کراچی کے بجائے لاہور میں ہو گا۔ اس کے علاوہ وہاں 11 میچز کھیلے جائیں گے۔

سیزن فائیو کے 9 میچز کراچی، 8 راولپنڈی اور 4 ملتان میں کھیلے جائیں گے جب کہ ایک میچ پشاور اور ایک پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں منعقد کرانے کا بھی منصوبہ زیرغور ہے۔

تمام میچز پاکستان میں کرانا ممکن نہیں:

پی سی بی کی یہ کوشش کہ تمام میچز پاکستان میں ہی ہوں، فرنچائزز کی نظر میں غیر عملی ہے۔ اس فیصلے پر ان کے تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔ اس معاملے کو سلجھانے اور تحفظات دور کرنے کے لیے پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی نے ٹیم مالکان کا ایک اجلاس پیر کو لاہور میں طلب کیا ہے۔

بعض پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرنچائزز اور پی سی بی کے درمیان مذاکرات سیزن فور سے اب تک تعطل کا شکار ہیں جب کہ ٹیم مالکان کو بھی بینک گارنٹی پر تحفظ ہے۔

بعض فرنچائزز نے طے کرلیا ہے کہ وہ نصف میچز عرب امارات میں کرانے کی سفارشات پی سی بی کو پیش کریں گے۔ ان کا موقف ہے کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو ایک ماہ کے لیے پاکستان آنے اور یہاں رہنے پر رضامند کرنا نہایت مشکل ہو گا جب کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی ایونٹ میں عدم شرکت سے کرکٹ کے شائقین کی دلچسپی کم ہو جائے گی۔

پی سی بی مان جائے گا؟
کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بات کے امکانات بہت مشکل نظر آتے ہیں کہ فرنچائز یا ٹیم مالکان کے کچھ میچز پاکستان کے بجائے پہلے کی طرح عرب امارات میں کرانے کی سفارشات پر رضا مند ہو جائے کیوں کہ وزیر اعظم اور پی سی بی کے پیٹرن ان چیف عمران خان پہلے ہی تمام میچز پاکستان میں کرانے کی ہدایات جاری کر چکے ہیں۔

اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟
پی سی بی معاملات کس حد تک حل کرنے میں کامیاب رہتا ہے اور اس حوالے سے کیا اہم فیصلے ہوں گے، اس کے لیے فی الحال سب کی نظریں پیر کو ہونے والے اجلاس پرلگی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG