رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں ایمبولینسوں کا شور، ’سلو پوائزننگ‘


کراچی میں دہشت گردی اور لاقانونیت کے سبب ایمبولیسز کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی ہے۔ ایمبولینس کراچی شہر ضرورت ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمبولینسز کے سبب شور میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سڑکوں اور گلیوں میں بے ترتیب ٹریفک کے درمیان پھنس کر راستہ مانگتی۔۔ سائرن، بزر اور ہارن بجاتی ایمبولیسز کے مناظر کراچی میں عام ہیں۔ ان کی آوازوں سے جو شور پیدا ہوتا ہے اس میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس پر رکشا، ٹیکسی، بس، ویگن، موٹر سائیکل، کاریں، چنگ چی ۔۔۔ کیا کچھ نہیں جو شور پیدا نہ کرتا ہو۔ اس شور میں ایمبولیسز کی تیز رفتاری اور زور دار سائرن دلوں کو تو دہلاتا ہی ہے ماحول میں زبردست شور کا سبب بھی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایمبولیس کے سائرن سے یکدم وحشت بڑھ جاتی ہے۔ دن تو دن رات کی خاموشی میں بھی ایمبولیس کے سائرن سماعتوں پر انتہائی گراں گزرتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور روز بروز بڑھتی لاقانونیت نے ایمبولیس کی افادیت کو بھی یکسر کم کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ ایمبولیس کا شور سن کر جھنجلانے لگے ہیں۔

شفقت نارتھ کراچی میں رہتے ہیں اور ہر روز انہیں تقریباً 20 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے آئی آئی چندریگر روڈ اپنے آفس جانا پڑتا ہے۔ گھر سے دفتر تک کے اس راستے پر بہت زیادہ رش ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صبح اور شام آتے جاتے انہیں کم ازکم 5 یا 6 ایمبولیسز ضرور ملتی ہیں۔

وائس آف امریکہ سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شفقت مزید کہتے ہیں، ’ایک تو سڑکوں پر پہلے ہی ٹریفک کا بہت زیادہ رش ہوتا ہے، ایسے میں اچانک پیچھے سے شور مچاتی ایمبولیس آجائے تو ماہر ڈرائیور کے بھی ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ پھر جب تک ایمبولیس کو راستہ ملے وہ مسلسل سائرن بجاتی رہتی ہے۔ یہ آواز سماعتوں پر ہتھوڑوں کی طرح برستی ہے‘۔

ایک اور شہری حسنین کا کہنا ہے کہ، ’شہر کے حالات ایسے ہیں کہ ایمبولیسز لازمی ہوگئی ہیں، اب ان کے بغیر گزارہ نہیں۔ بم دھماکوں اورٹارگٹ کلنگز سے لیکر ٹریفک حادثات تک ہر جگہ ایمبولیسز ہی بلائی جاتی ہیں۔ سرد خانوں سے گھروں تک اور گھروں سے اسپتالوں تک لیکن ان سے جو مسائل جنم لے رہے ہیں ان کا بھی تو کوئی حل ہوناچاہئے‘۔

ٹاؤن پلاننگ کے شعبے سے وابستہ ایک سرکاری عہدیدار اور ماحولیات پر گہری نظر رکھنے والے سلیم شیخ نے اس حوالے سے وی او اے کو بتایا، ’آج کے انسان کو بہت سی بیماریاں ’ترقی کی بدولت‘ ملی ہیں۔ ان میں شور بھی سرفہرست ہے۔ جدید تحقیق کہتی ہے کہ کراچی میں شور ’سلو پائزنگ‘ کا کام کررہا ہے۔ ترقی پر تو پابندی ناممکن ہے لیکن شور سے بچنے اور اسے کم رکھنے کے لئے درست حکمت ِعملی کی ضروری ہے۔ ہماری عوام اور ہمارے ادارے دونوں شور سے بچنے کے حفاظتی اصولوں سے ناواقف ہیں، اس لئے ہمیں ’نوائز پولوشن‘ کا احساس ہی نہیں۔ ’ڈیسی بل‘ شور کو ناپنے کی اکائی ہے۔ 85 ڈیسی بل کا شور مسلسل سنتے رہنا انسانی صحت اور سماعت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے جبکہ ایمبولیسز کے سائرن، بزر اور ہارنز 85 ڈیسی بل سے زیادہ شور پیدا کرتے ہیں‘۔

گزشتہ کئی عشروں کے دوران دہشت گردی اور لاقانونیت کے ہر روز بڑھتے ہوئے واقعات سے شہر میں ایمبولیس نیٹ ورکس کے گویا جال سے بچھ گئے ہیں۔ پہلے صرف ایدھی ٹرسٹ یا گنے چنے اداروں کی ہی ایمبولیسز چلا کرتی تھیں مگر اب چھیپا ٹرسٹ سمیت بے شمار ایمبولیس سروس فراہم کرنے والے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے قائم ہوگئے ہیں۔ شہر کا ہر چھوٹا بڑا ہوسپٹل ایمبولیس سروس کا حامل ہے۔ کچھ سیاسی تنظیموں نے بھی فلاحی ادارے قائم کئے ہوئے ہیں جن کے باقاعدہ اور منظم ایمبولینس نیٹ ورکس ہیں۔

شہریوں کی سماعت پر ’شور‘ عذاب بن کر، سلو پائزنگ کی صورت انہیں ان دیکھی بیماریوں میں مبتلا کر رہا ہے۔ دن رات بڑھتے ہوئے شور کے سبب شہریوں میں جھنجلاہٹ، چڑچڑاپن، بہرا پن، غصیلہ پن، ہائپرٹینشن، بلڈ پریشر، بے خوابی، ڈپریشن، بے چینی، طاق ِنسیاں اور کام سے بیزاری جیسی درجن بھر سے زائد بیماریاں آہستہ آہستہ عام ہورہی ہیں۔

تدریسی شعبے سے وابستہ ڈاکٹر عنبر شعیب کا کہنا ہے، ’شور وہ ’خطرناک بیماری‘ ہے جو حاملہ عورتوں کے ساتھ ساتھ ان کے ہونے والے بچوں کو بھی متاثر کرتی ہے‘۔

ماہر ِنفسیات ڈاکٹر مبین کہتے ہیں، ’آمد ورفت کے درجنوں ذرائع کے ساتھ ساتھ ایمبولینسز کے بے ہنگم شور نے بھی کراچی میں ’نوائس پولوشن‘ کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے۔ شہری متعدد ان دیکھی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اور ٹریفک مسائل بھی مزید سنگین ہو گئے ہیں۔
XS
SM
MD
LG