رسائی کے لنکس

امریکی سینما گھروں کے پاس نمائش کے لیے فلم نہیں


دنیا میں سینما گھروں کے سب سے بڑے سلسلے، اے ایم ایس تھیٹرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ میں اپنا کاروبار کھولنے کا ارادہ اگست کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کررہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس دکھانے کو کوئی نئی فلم نہیں ہے۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے فیصلے کی وجہ بڑے بجٹ کی فلموں کی ریلیز کو آگے بڑھایا جانا ہے جن میں وارنر برادرز کی پیشکش ٹینیٹ اور ڈزنی کی فلم مولن شامل ہیں۔ کئی دوسری فلموں کی نمائش بھی آگے بڑھائی جاچکی ہے۔

کرونا وائرس کی وجہ سے اے ایم سی تھیٹرز امریکہ میں اپنے سینما کھولنے کا ارادہ پہلے بھی دو بار ملتوی کرچکی تھی۔ بلاک بسٹر فلموں کی ریلیز بھی اسی لیے موخر کی جارہی ہے کیونکہ عوامی اجتماعات پر پابندیوں میں نرمی نہیں کی جارہی۔

ممتاز فلمساز کرسٹوفر نولین کی فلم ٹینیٹ کی نمائش کو وارنر برادرز نے تیسری بار ملتوی کیا ہے۔ اس بار 12 اگست کی تاریخ طے کی گئی تھی لیکن ممکنہ طور پر اسے اب ستمبر میں ریلیز کیا جائے گا۔ ڈزنی نے فی الحال مولن کی نمائش کے لیے 21 اگست کی تاریخ تبدیل نہیں کی۔

بعض لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ سینما گھر کھل بھی جائیں تو کیا فلم بین آنے کے لیے تیار ہیں؟ امریکہ میں گزشتہ چار ماہ کے دوران کروڑوں افراد بیروزگار ہوئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس تفریح پر خرچ کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ امریکہ میں کئی ہفتوں تک وبا کا زور گھٹنے کے بعد ایک بار پھر وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آرہی ہے اور کیسز اور اموات کی تعداد تشویش ناک ہوچکی ہے۔

اے ایم سی نے گزشتہ ماہ وعدہ کیا تھا کہ جب اس کے سینما گھر کھلیں گے تو ملازمین فیس ماسک پہنیں گے، تھیٹر میں سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جائے گا اور ہر شو کے بعد جراثیم کش دوا کا اسپرے کریں گے۔

بعض ریاستوں نے سنیما گھروں کو پابند کیا تھا کہ وہ گنجائش سے ایک چوتھائی ٹکٹ فروخت کریں گے اور نشستوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھا جائے گا۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ فلم شروع ہونے سے چند منٹ پہلے دروازے پر ہجوم نہ آجائے۔ کیلی فورنیا کے حکام نے مشورہ دیا تھا کہ ہر نشست پر ڈسپوزایبل سیٹ کور ہونا چاہیے۔

اے ایم سی کا کہنا تھا کہ وہ جراثیم کش دوائیں بنانے والی کمپنی کولوریکس سے صفائی ستھرائی کے لیے مشورے لے گی، جدید ٹیکنالوجی والی مشینوں سے چھڑکاؤ کرے گی اور ہوا کی گزر گاہوں کو بہتر بنائے گی۔

چین کے ڈالین وینڈا گروپ کے تحت چلنے والی کمپنی اے ایم سی کو گزشتہ سہ ماہی کے دوران سنیما گھر بند ہونے سے 2 ارب 18 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوچکا تھا۔ 30 اپریل تک اس کے پاس 71 کروڑ ڈالر موجود تھے جو ستمبر تک سینما بند ہونے کی صورت میں اسے دیوالیہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔

لیکن، کیا ستمبر تک کرونا وائرس کی وبا پر قابو پالیا جائے گا اور سینما گھروں میں نئی فلموں کی نمائش شروع ہوسکے گی؟ ماہرین اس بارے میں کوئی پیش گوئی کرنے سے گریز کررہے ہیں۔

امریکہ کے برعکس اے ایم سی کے یورپ اور مشرق وسطیٰ میں ایک تہائی سینما گھر پہلے ہی کھل چکے ہیں اور معمول کے مطابق فلموں کی نمائش جاری ہے۔ کینساس میں قائم کمپنی کے دنیا بھر میں ایک ہزار سینما گھر ہیں اور 11 ہزار اسکرینز ہیں۔

XS
SM
MD
LG