رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں سنیما کھل رہے ہیں، بڑے بجٹ کی فلمیں آںے والی ہیں


دنیا میں سنیما گھروں کے سب سے بڑے سلسلے 'اے ایم سی' تھیٹرز نے یکم جولائی سے امریکہ اور برطانیہ بھر میں اپنے کمپلیکس کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

اس دن رسل کرو کی فلم ان ہنجڈ ریلیز ہوگی۔ دو ہفتے بعد کرسٹوفر نولین کی 20 کروڑ ڈالر لاگت سے بننے والی فلم ٹینیٹ پیش کی جائے گی۔

98 ملکوں کے سنیما گھروں کی تنظیم نیشنل ایسوسی ایشن آف تھیٹر اونرز کے مطابق جولائی کے تیسرے ہفتے تک بیرون امریکہ 90 فیصد سینما گھر نمائش شروع کرچکے ہوں گے۔ لیکن سب سے بڑا سوال ہے کہ کیا فلم بین سینما گھر آنے کے لیے تیار ہیں؟

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے 74 لاکھ افراد متاثر ہوچکے ہیں اور 4 لاکھ 15 ہزار زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ عالمگیر وبا کے زمانے میں جو کاروبار کھلے ہیں، ان کے لیے سخت احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

سنیما گھر وعدہ کررہے ہیں کہ ان کے ملازمین فیس ماسک پہنیں گے، تھیٹر میں سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جائے گا اور ہر شو کے بعد جراثیم کش دوا کا اسپرے کریں گے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان کی یقین دہانیوں سے کتنے لوگ مطمئن ہوں گے۔

بعض ریاستوں نے سنیما گھروں کو پابند کیا ہے کہ وہ گنجائش سے ایک چوتھائی ٹکٹ فروخت کریں گے اور نشستوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھا جائے گا۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ فلم شروع ہونے سے چند منٹ پہلے دروازے پر ہجوم نہ آجائے۔ کیلی فورنیا کے حکام نے مشورہ دیا ہے کہ ہر نشست پر ڈسپوزایبل سیٹ کور ہونا چاہیے۔

اے ایم سی کا کہنا ہے کہ وہ جراثیم کش دوائیں بنانے والی کمپنی کولوریکس سے صفائی ستھرائی کے لیے مشورے لے گی، جدید ٹیکنالوجی والی مشینوں سے چھڑکاؤ کرے گی اور ہوا کی گزر گاہوں کو بہتر بنائے گی۔

امریکہ میں فلم بینوں کی سب سے بڑی مارکیٹ لاس اینجلس ہے جو سب سے پہلے کھل جائے گی۔ نیویارک کا دوسرا نمبر ہے لیکن اس کے سنیما کھلنے میں دو تین ہفتے مزید لگ سکتے ہیں۔ سنیما گھر کھولنے کے لیے محکمہ صحت کے حکام کی منظوری درکار ہوگی۔

چین کے ڈالین وینڈا گروپ کے تحت چلنے والی کمپنی اے ایم سی کو رواں سہ ماہی کے دوران سنیما گھر بند ہونے سے 2 ارب 18 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ 30 اپریل تک اس کے پاس 71 کروڑ ڈالر موجود تھے جو ستمبر تک سینما بند ہونے کی صورت میں اسے دیوالیہ ہونے سے بچاسکتے ہیں۔

ناروے میں گزشتہ ہفتے سنیما کھلے تو 83 فیصد ٹکٹ فروخت ہوگئے۔ لیکن اے ایم سی امریکہ کی مارکیٹ کے بارے میں ایسی توقع کا اظہار نہیں کر رہی۔ امریکہ میں گزشتہ تین ماہ کے دوران کروڑوں افراد بیروزگار ہوئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کے پاس تفریح پر خرچ کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

اے ایم سی کی حریف کمپنی ریگل تھیٹرز بھی جولائی میں سنیما کھولنے کی تیاری کررہی ہے جب کہ سینے مارک 19 جون سے سنیما کھولنا شروع کردے گی۔ ان تمام تھیٹر کمپنیوں کو وبا سے پہلے بھی نیٹ فلکس جیسی ویڈیو اسٹریمنگ سروسز مقبول ہونے سے مالی خساروں کا سامنا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG