رسائی کے لنکس

'وزارتِ داخلہ کی واچ لسٹ میں شامل تنظیموں پر مکمل پابندی ہو گی'


فائل

وزارت داخلہ حکام نے بتایا ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو اپنے شہریوں کو دوسرے ممالک کے حوالے کرنے کی اجازت دیتا ہو

پاکستانی پارلیمان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997 میں ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت وزارت داخلہ کی واچ لسٹ میں شامل انفرادی شخص، تنظیم، مذہبی اور سیاسی جماعتوں پر مکمل پابندی عائد کی جا سکے گی۔

کمیٹی نے اقوام متحدہ کی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے حوالے سے ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کیا۔ اس بل کے حوالے سے جمعیت علماء اسلام کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس اسکے چیئرمین رانا شمیم کی زیر صدارت بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا جس میں وزارت داخلہ کے حکام نے انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) 1997 میں ترمیم کے مسودے پر بریفنگ دی۔

وزارت داخلہ حکام نے بتایا کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں جو اپنے شہریوں کو دوسرے ممالک کے حوالے کرنے کی اجازت دیتا ہو۔ نئے قانون سے بین الاقوامی برادری کے ساتھ ہم آہنگی بڑھے گی، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق انسداد دہشتگردی قانون میں تبدیلی کی ضروری ہے۔ ایف اے ٹی ایف میں مطالبہ تھا کہ تنظیموں کو کالعدم قرار دیں جو ہمارے قانون کے مطابق براہ راست ممکن نہیں ہے۔

کمیٹی رکن نعیمہ کشور نے سوال اٹھایا کہ اگر جماعت الدعوۃ کے چیف حافظ سعید کو حوالے کرنے کو مطالبہ آیا تو پاکستان کیا کرے گا جس پر وزارت داخلہ حکام نے جواب دیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا پابند ہے۔

سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ بل میں ایک سیکشن شامل کرنے سے قانون عالمی معیار کا ہو جائے گا، عالمی معیار کا قانون بنانے تک عالمی پابندیوں کی تلوار لٹکتی رہے گی، عالمی معاہدات کی اخلاقی اور مذہبی طور پر پابندی لازم ہے۔ دہشت گردی کا کسی صورت دفاع کر رہے ہیں نہ کر سکتے ہیں۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے شرکاء کو بتایا کہ جب ہم اقوام متحدہ کے رکن ہیں تو اس کے ضابطوں کی پابندی ضروری ہے۔ دنیا کے ساتھ رہنا ہے تو انسداد دہشتگردی ترمیمی بل منظور کرنا ہوگا۔ اگر کمیٹی اراکین اختلاف کریں گے تو عالمی سطح پر اچھا پیغام نہیں جائے گا اور پاکستان مخالف لابیوں کو دہشت گردوں کی حمایت سے متعلق پراپیگنڈے کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہتے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ قوانین کو بہتر کرنے سے دنیا میں پاکستان کی ساکھ بہتر ہوگی۔ وہ قوانین جو بین الاقوامی نظام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان سے ہم راہ فرار اختیار نہیں کرسکتے، اگر بل منظور نہ کیا تو دشمن یہ ثابت کریں گے کہ ہمارا دہشت گردی سے نمٹنے کا ارادہ نہیں۔

جمعیت علماء اسلام ف کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی۔ تاہم، کمیٹی نے بل کی منظوری دے دی جس کے تحت وزارت داخلہ کی واچ لسٹ میں شامل انفرادی شخص، تنظیم، مذہبی اور سیاسی جماعتوں پر مکمل پابندی عائد کی جا سکے گی۔

اس بل کے تحت تحقیقاتی افسر کی تربیت بھی کی جا سکے گی تاکہ وہ منی لانڈرنگ کے ذرائع کی تلاش کرسکے۔

رواں برس کے آغاز میں صدرِ مملکت ممنون حسین نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی جانب سے قرار دیئے جانے والی کالعدم تنظیمیں اور دہشت گرد افراد ملک میں بھی کالعدم قرار دی گئیں۔

مذکورہ ترمیمی بل پر صدارتی دستخط کے بعد حافظ محمد سعید کی جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن (ایف آئی ایف) سمیت ال اختر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل ہوگئی تھیں۔

جماعت الدعوۃ کے چیف حافظ سعید نے صدارتی آرڈیننس اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے جبکہ ان کا دعویٰ ہے کہ صدارتی آرڈیننس محض بیرونی عناصر کے دباؤ میں آکر جاری کیا گیا جس کی آزاد ریاست میں کوئی گنجائش نہیں اور مذکورہ آرڈیننس آئین سے ‘متضادم’ ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان نے 19 جنوری کو پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ حافظ سعید کا نام اقوام متحدہ کی تیار کردہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو فروری 2012 میں گرے کیٹیگری میں شامل کیا تھا جہاں وہ تین سال تک اسی کیٹیگری میں رہا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے فروری کے آخر میں پریس بریفنگ میں دہشت گردوں کے معاون ممالک سے متعلق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں پاکستان کا نام رواں سال جون میں شامل ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کا نام بلیک لسٹ میں آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے کہا گیا اور حکومت ان معاملات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG