رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: داعش کی سپورٹر لڑکی کی فوری وطن واپسی کی درخواست مسترد


داعش میں شمولیت کے لیے امریکہ سے بھاگ کر شام جانے والی ہدا موثانا اپنے دو سالہ بچے کے ساتھ کرد علاقے کے ایک پناہ گزین کیمپ میں مقیم ہے۔

واشنگٹن کی ایک وفاقی عدالت نے جج نے پیر کے روز ہدا موثانا کی ترجیحی بنیادوں پر اپنے 18 ماہ کے بچے کے بعد وطن واپسی کی درخواست مسترد کر دی جس نے 2014 میں الاباما سے بھاگ کر شام میں داعش کے ایک جنگجو سے شادی کر لی تھی۔

مشرق وسطیٰ سے داعش کے تقریباً خاتمے کے بعد ہدا اب شام کے کرد علاقے میں قائم ایک پناہ گزین کیمپ میں رہ رہی ہے اور وہ اپنے 18 ماہ کے بچے کے ساتھ وطن واپس آنا چاہتی ہے۔ جب کہ امریکی انتظامیہ نے یہ کہتے ہوئے اس کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا ہے کہ وہ کبھی بھی امریکی شہری نہیں تھی۔

ہدا موثانا چند سال پہلے داعش کی زبردست سپورٹر تھی اور اس کے پیغام کو پھیلا رہی تھی۔ اس نے 19 مارچ 2015 کو اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’امریکیو، نیند سے بیدار ہو جاؤ۔ تمام عورتیں اور مرد اٹھ کھڑے ہوں۔ ایک ایسے وقت میں آپ کو بہت کچھ کرنا ہے جب کہ آپ اپنے سب سے بڑے دشمن کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ آپ بہت سو چکے۔ گاڑیاں لے کر باہر نکلو اور ان کا سارا خون بہا دو، یا ایک بڑا ٹرک کرائے پر لو اور ان پر چڑھا دو۔ کسی بھی اہم دن کی تقریب میں جاؤ اور گاڑی ان پر چڑھا دو۔ ان کا خون بہاؤ۔ انہیں مار دو‘۔

اب چار سال بعد وہی ہدا امریکی حکومت سے درخواست کر رہی ہے کہ اسے اپنے وطن واپس آنے دیا جائے۔ وہ امریکہ میں پیدا ہوئی، امریکہ میں پلی بڑھی، وہیں تعلیم حاصل کی اور پھر داعش کے پراپیگنڈے سے گمراہ ہو کر شام چلی گئی تھی۔

ہدا اس وقت اپنے تقریباً دو سالہ بچے کے ساتھ شام کے کرد علاقے میں ایک پناہ گزین کیمپ میں رہ رہی ہے۔

اس کے والد نے، جو ا الاباما میں رہتے ہیں، اپنی بیٹی کو واپسی کی اجازت دینے کے لیے درخواست جمع کرائی ہے۔

​امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا اب اس معاملے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ عہدے دار کہتے ہیں کہ امریکہ میں پیدائش کا سرٹیفیکٹ اور امریکی پاسپورٹ کے باوجود ہدا کبھی بھی امریکی شہری نہیں تھی۔

20 فروری کو صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ میں نے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو ہدایات جاری کیں ہیں۔ وہ مجھ سے پوری طرح متفق ہیں۔ وہ ہدا موثانا کو واپسی کی اجازت نہیں دیں گے۔

اس کے بعد پومپیو نے فاکس نیوز ٹی وی چینل کو بتایا کہ ہدا ایک غیر امریکی دہشت گرد ہے۔ اور امریکہ کی شہرت رکھنے کے اس کے دعوے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

امریکی ریاست الاباما کی رہنے والی ہدا نے 2014 میں جب وہ 20 سال کی تھیں، اپنے گھر والوں کو اپنے منصوبوں کے متعلق بتائے بغیر ترکی چلی گئیں۔ انہوں نے گھر والوں سے کہا تھا کہ وہ یونیورسٹی کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے ترکی جا رہی ہیں۔

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ شام چلی گئیں تھیں جہاں وہ داعش کے عہدے داروں کو مغربی ملکوں پر حملے کرنے کی ترغیب دیتی رہیں۔

اب جب کہ عسکریت پسندوں کو شام سے نکال دیا گیا ہے۔ ہدا یہ کہہ رہی ہیں کہ انہیں اپنے کیے پر بہت افسوس ہے، لیکن امریکی عہدے داروں نے اس پر اپنے ملک کے دروازے بند کر دیے ہیں۔

دوسری جانب ہدا کہتی ہیں کہ وہ امریکہ میں پیدا ہوئیں تھیں اور وہ امریکہ کی قانونی شہری ہیں۔ انہوں نے امریکہ سے ترکی کا سفر بھی امریکی پاسپورٹ پر ہی کیا تھا۔

ہدا کے والد امریکہ میں یمن کے سفارت کار تھے۔ قانون کے مطابق امریکہ میں مقیم غیر ملکی سفارت کاروں کے امریکہ میں پیدا ہونے والے بچے پیدائش کی بنیاد پر شہریت کے اہل نہیں ہوتے اور وہ اپنے ملکوں کے ہی شہری تصور کیے جاتے ہیں۔

لیکن امریکی مسلمانوں کی ایک تنظیم سینٹر فار مسلمز ان امریکہ کے ڈائریکٹر چارلی سوفٹ کہتے ہیں کہ اس قانون کا إطلاق ہدا پر نہیں ہوتا کیونکہ ان کی پیدائش سے ایک مہینہ پہلے بحیثیت سفارت کار، ان کے والد کی ملازمت ختم ہو گئی تھی۔

ہدا کی داعش میں شمولیت کے بعد اس کی فیملی کو حکومت کی طرف سے ایک خط موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ ہدا کا پاسپورٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ہدا کے والد نے حکومت کو یہ ثبوت فراہم کیے کہ ہدا ان کی ملازمت ختم ہونے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔

ہدا کی عمر اس وقت 24 سال ہے۔ وہ جنوری میں داعش کے کنٹرول کے علاقے سے فرار ہونے کے بعد شام کے ایک کیمپ میں اپنے بیٹے کے ساتھ رہ رہی ہے۔

ہدا ان 13 افراد میں شامل ہے جن کی شناخت امریکی شہری کے طور پر ہوئی ہے۔ یہ تمام عورتیں اور بچے ہیں، ان میں کوئی مرد شامل نہیں۔

انہیں مشرقی شام کے ایک ایسے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے جو کردوں کے کنٹرول میں ہے۔ ان میں سے اکثر کو ہدا جیسے مسائل کا سامنا ہے اور تکنیکی بنیادوں پر ان کی امریکی شہریت پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

ہدا شام کے ایک پناہ گزین کیمپ میں سی بی این ٹی وی چینل کے نمائندے سے بات کر رہی ہیں۔ 3 مارچ 2019
ہدا شام کے ایک پناہ گزین کیمپ میں سی بی این ٹی وی چینل کے نمائندے سے بات کر رہی ہیں۔ 3 مارچ 2019

داعش کے خلاف جنگ میں پکڑے جانے والے امریکی مردوں پر مقدمات چلائے جائیں گے اور انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

حال ہی میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ نے یورپی ملکوں سے تعلق رکھنے والے داعش کے 800 سے زیادہ جنگجوؤں کو پکڑا تھا۔ یورپی ملک ان کے خلاف مقدمے چلانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے۔

داعش میں شامل ہونے والی ایک برطانوی نژاد لڑکی شمیمہ بیگم نے چند روز پہلے وطن واپس لوٹنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، جس پر برطانیہ کی طرف سے کہا گیا کہ ناقابل ترديد شواہد کی بنیاد پر اس کی شہریت منسوخ کر دی گئی ہے، جس سے وہاں میڈیا میں کئی سوالات اٹھائے جائے رہے ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ 19 سالہ شمیہ ایک جنگجو کی بیوی ہونے کے ناطے اپنے بچے کے ساتھ جنگ زدہ علاقے میں کیسے زندگی گزار پائے گی۔

شمیمہ فروری 2015 میں اپنی دو سہیلیوں 15 سالہ امیرہ عباسی، اور 16 سالہ خدیجہ سلطانہ کے ساتھ گھر والوں سے جھوٹ بول کر لندن سے ترکی کے دارالحکومت استنبول پہنچی تھیں جہاں سے وہ تینوں داعش میں شمولیت کے لیے شام چلی گئی تھیں۔

ہدا نے اخبار گارڈین کو بتایا کہ داعش کے پراپیگنڈے نے اس کی برین واشنگ کر دی تھی اور وہ یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ داعش کا عقیدہ درست ہےجس کے بعد اس نے داعش میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا۔

سی این این کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام پہنچنے کے بعد ہدا کی تین بار شادی ہوئی۔ اس کے دو خاوند داعش کے جنگجو تھے اور وہ جنگوں میں مارے جا چکے ہیں۔ تیسرا خاوند آسٹریلیا کا شہری تھا۔ ہدا کے بیٹے کی عمر 18 ماہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG