رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی معاشرے میں معذور افراد کو یکساں مواقع حاصل ہیں


اس وقت دنیا بھر میں جسمانی یا ذہنی معذوری میں مبتلا افراد کی تعداد 65 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثر افراد کو تعلیم، روزگار اورطبی سہولتوں کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں جسمانی یا ذہنی معذوری میں مبتلا افراد کی تعداد 65 کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں سے اکثر افراد کو تعلیم، روزگار اورطبی سہولتوں کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ امریکہ میں معذور افراد کی تعداد پانچ کروڑ کے قریب ہے۔تاہم بیس سال قبل ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں ان کی زندگیوں میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں ۔
اکیس سالہ جمی کرین ایک ایسا نوجوان ہے جس کا مسقبل روشن ہے۔ وہ کالج میں فنانس اور اکنامکس کا طالب علم ہے۔ جمی پیدائشی طور پر ریڑھ کی ہڈی کی ایک بیماری میں مبتلا ہے۔ مگر اس نے اس بیماری کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا اور وہ چاہتا ہے کہ دوسرے بھی اسے معذور نہ سمجھیں۔

جمی کا کہنا ہے کہ اگر میں صرف ان لوگوں سے ملوں جو کسی جسمانی معذوری کا شکار ہیں تو میرے نزدیک یہ ایک غلط رویہ ہے۔ اس سے دوسروں کو یہ اندازہ بھی نہیں ہو پاتا کہ ہم لوگوں میں کیا کیا صلاحتیں موجود ہیں۔ ہم عام لوگوں سے مختلف نہیں۔

1990ء میں جب امریکہ میں معذور افراد کے حقوق سے متعلق قانون سازی ہوئی تو اس وقت جمی کی عمر محض ایک سال تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس قانون نے اس کی زندگی کو بہتر بنایا۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے پہلے معذورافراد وہ سہولتیں حاصل نہیں تھیں جو اس قانون کی وجہ سے میری نسل کے لوگوں کو ملیں۔

نصف صدی قبل، معذور افریقی نژاد امریکیوں نے ووٹنگ، رہائش، تعلیم اور روزگار سے محروم کیے جانے کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا۔ انہوں نے یہ قدم اس زمانے میں جاری شہری حقوق کی تحریک کے بعداٹھایا تھا۔

آج اس قانون کے تحت انہیں دیگر لوگوں کی طرح برابری کی بنیاد پر معاشرے میں پوری طرح شمولیت کے مواقع، خودمختار زندگی اور معاشی طور پر مستحکم ہونے کا حق دیا گیا ہے۔ ان کے لیے سڑکوں کے کناروں پر، دروازوں پر اور عوامی ٹرانسپورٹ تک معذوروں کی رسائی اور نابینا افراد کے لیے بریل اشاروں کی سہولت بھی شامل ہے۔

امریکہ میں معذوروں کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس قانون کے تحت معذوروں کو دیگر افراد کی طرح روزگار کے یکساں مواقع نہیں فراہم کیے گئے۔ تنظیم کے سربرا اینڈی کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں معذور افراد کے لیے ملازمت کے مواقع بہت محدود رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جسمانی عوارض میں مبتلا افراد کے لیے روزگار کے مواقعوں کی شرح میں کوئی بہتری نہیں دیکھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں اس طرح معاشرے کو زیادہ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک معذوری کی وجہ سے یہ بہانہ نہیں بنانا چاہیے کہ میں فلاں کام اتنے بہتر انداز میں نہیں کرسکتا جیسا کہ دوسرے لوگ کر سکتے ہیں۔

جمی کا کہنا ہے کہ معذور افراد کو اپنے آپ کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف تربیتی پروگراموں میں بھی حصہ لینا چاہیے۔ اس کے لیے ہر معذور افراد کو خود ہمت دکھانا ہوگی۔

XS
SM
MD
LG