رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں غیرقانونی داخل ہونے والی ماں اور بچوں کی حراست کے بعد پہلی ملاقات


امریکہ میکسیکو سرحد پر غیر قانونی آمد و رفت روکنے کے لیے دیوار۔ فائل فوٹو

چند روز قبل وائس آف امریکہ نے گوئٹے مالا کی ایک ماں ینی گونزیز کی خبر نشر کی تھی جسے بغیر قانونی دستاویزات کے سرحد عبور کر کے امریکہ داخل ہونے کے بعد گرفتار کرنے کے بعد اس کے تین بچوں اس سے الگ کر دیا گیا تھا۔ اب ینی گونزیلزکو رہا کر دیا گیا ہے اور اپنے بچوں سے دوبارہ ملنے کے لیےبس کے ذریعے اری زونا سے نیو یارک پہنچ گئی ہے۔

ماں اور بچوں کے ملاپ کو جن لوگوں نے ممکن بنایا، ماں اور بچوں کو پھر سے ملتے ہوئے دیکھنا ان کے لیے بہت خوشی کا لمحہ تھا۔

گونزیلز نے بتایا کہ بچے مجھے دیکھ کر خوش ہوئے۔جب انہوں نے مجھے دیکھا تو مجھ سے لپٹ گئے ،وہ رو نے لگے اور انہوں نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ میں انہیں جلدی سے یہاں سے کہیں دور لے جاؤں۔

ینی گونزیلز نے اپنے بچوں سے دوبارہ ملاپ کے بعد ایک پورا دن ان کے ساتھ ایک کئیر سنٹر میں گزارا جہاں انہیں گرفتار کر کے بھیجا گیا تھا۔ لیکن گونزیلز کے وکیل کے مطابق امریکی ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کے قائم کردہ قانونی ضابطے کے تحت انہیں اپنے بچوں کو مستقل طور پر اپنے ساتھ رکھنے میں کئی دن یا کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں ۔

لیکن اری زونا میں ایک حراستی مرکز میں رکھی جانے والی گونزیلز کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو واپس لینے کے لیے قانونی تقاضے پورے کریں گی ۔

ان کے وکیل ہوزے اوروچینانے ماں اور بچوں کی 47 دن کی جدائی کے بعد ہونے والی ملاقات کے موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جب ان بچوں نے آخر کار اپنی ما ں کو دیکھا تو وہ ایک جذباتی لمحہ تھا۔ لیکن اب جب دن ختم ہونے پر ان کی والدہ کو ان سے یہ کہنا پڑے گا کہ سوری بیٹا سوری بیٹی مجھے اب جانا ہے اور آپ کو ابھی یہاں ہی رہنا ہے تو پھر کیا ہو گا۔

ہوزے اوروچیناکہتے ہیں کہ نارتھ کیلی فورنیا میں گونزیلز کے رشتے داروں نے پہلے ہی بچوں کی سپردگی کی ایک درخواست دائر کر دی ہے اور اب وہ ان کی والدہ کےلیے بھی ایسی ہی ایک درخواست دائر کریں گے ۔ لیکن انہیں سب سے پہلے اری زونا کے حراستی مرکز سے گونزیلز کے فنگر پرنٹس درکار ہوں گے تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ان مزید دو ہزار بچوں کو ان کے والدین سے دوبارہ ملاپ کے طریقوں پر کام کر رہے ہیں لیکن یہ کام کیسے ہوگا یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG