رسائی کے لنکس

logo-print

'خشوگی کے قتل سے سعودیوں پر یمن جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوا'


استنبول میں جمال خشوگی کے قتل کے خلاف مظاہرہ۔ 25 اکتوبر 2018

امریکی دفترِ خارجہ کے نائب ترجمان رابرٹ پیلا ڈِینو کا کہنا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نویس جمال خشوگی کی باقيات کو جلد از جلد تلاش کر کے انہیں اس کے خاندان کے حوالے کرے تا کہ وہ اس کی باقاعدہ تدفین کر سکیں۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ59 سالہ سعودی صحافی کو ، استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے فوری بعد، گلا گھونٹ کر مارا گیا ، اور پھر ان کے جسم کے ٹکڑے کئے گئے تھے۔

قتل ہونے والے امریکہ میں مقیم سعودی صحافی جمال خشوگی کے اہلِ خانہ اور احباب نے اپیل کی ہے کہ ان کی باقيات کو ان کے حوالے کیا جائے تا کہ وہ اُن کی مناسب تدفین کر سکیں۔

ترک عرب میڈیا ایسو سی ایشن کے فتح اوکے نے کہا کہ ہماری ترجيح بھی اب وہی ہے جو خشوگی خاندان کی ہے، کے جمال کی میت کا کچھ حصہ، ان کی وصیت کے مطابق، مدینہ میں دفن کیا جائے۔ مدینہ منورہ میں جنت البقع میں دفن کیا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ وصیت پوری ہو۔ ہم پوری دنیا پر زور دیں گے کہ وہ سعودی حکومت پر ضروری دباؤ ڈالے، بین الاقوامی دباؤ، کہ اس سے پہلے کہ وہ قتل کے ذمہ داروں کو تلاش کریں، اور معاملے کو دبا دیا جائے، ان کی باقيات کو تلاش کیا جائے تا کہ اُن کی مناسب تدفین ہو سکے۔

جمعرات کے روز، امریکی دفتر خارجہ نے بھی سعودی عرب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جمال خشوگی کی باقيات کو تلاش کر کے، انہیں ان کے ورثا کے حوالے کرے۔

بدھ کے روز، صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی حکمرانوں نے انہیں دھو کہ دیا ہے۔ جواب میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجھے دھوکہ نہیں دیا۔ میری خواہش کہ سب ٹھیک ہو۔ ہمارے پاس بہت سے حقائق ہیں۔ ہم بہت سی باتوں پر غور کر رہے ہیں۔ ہو سکتا کہ انہوں نے خود کو دھوکہ دیا ہو۔

چند تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی کی جانب سے خشوگی کا قتل، اور پھر ابتدا میں اس کی ترديد، جس کے بعد بدلتے بیانات کہ کیا ہوا، ان سب سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پوزیشن خراب ہوئی ہے۔

دیگر کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اب سعودی عرب پر زیادہ اثر و نفوذ حاصل ہوا ہے کہ وہ ان پر یمن میں جاری تنازعے کو ختم کرنے کے لئے دباؤ ڈالیں جس کی اب نصف سے زیادہ آبادی، یعنی ایک کروڑ چالیس لاکھ افراد کو بھوک کی وجہ سے ہلاک ہونے کا خطرہ ہے۔

بیروت میں قائم امیریکن یونیورسٹی کے بلال خاشانی کا کہنا ہے کہ مجھے اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ خشوگی کی ہلاکت سے، سعودیوں پر دباؤ پڑا ہے کہ وہ یمن سے جنگ بندی کے لئے تیار ہوں اور دیگر جگہوں پر بھی رعائتیں دیں۔

منگل کے روز، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے امریکی پالیسی میں واضح تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت ہے کہ یمن میں جاری کارروائیوں کو روکا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG