رسائی کے لنکس

logo-print

خشوگی کی ہلاکت کا معمہ اور امریکی مؤقف


خشوگی کی ترکی میں سعودی قونصلیٹ میں ہلاکت کے خلاف وائٹ ہاؤس کے باہر سرگرم کارکنوں سعودی حکمرانوں کے کاسٹیوم میں مظاہرہ۔ 19 اکتوبر 2018

امریکہ میں اس بارے میں کچھ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سعودی صحافی اور امریکی شہری جمال خشوگی کی ہلاک اور امریکہ سعودی عرب تعلقات کے حوالے سے کس نتیجے پر پہنچی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کے متعلق سوالوں کا جواب دینے سے مسلسل انکار کیا ہے باوجودیکہ سی آئی اے کا کہنا ہے کہ خشوگی کو ہلاک کرنے کے احکامات سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے آئے تھے۔

جمال خشوگی کی ہلاک اور اس بارے میں گردش کرنے والی کہانیوں اور سعودی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات کے دو ماہ بعد بھی امریکی صدر ٹرمپ اس پر کوئی واضح بیان دینے کے لئے تیار نہیں ہیں کہ خشوگی کے قتل کا حکم کس نے دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہمیں اس بارے میں مکمل رپورٹ دو دن میں موصول ہو جائے گی، شاید پیر یا منگل کے روز۔

ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ کیا سی آئی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس کے پیچھے شہزادہ محمد بن سلمان کا ہاتھ تھا؟

صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ہم نے ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکالا۔ ابھی یہ قبل از وقت ہے۔ لیکن یہ ممکن ہے۔ ہم دیکھیں گے۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی ولی عہد نے ان سے پانچ بار یہ کہا ہے کہ ان کا خشوگی کے قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا محمد بن سلمان نے ان سے جھوٹ بولا تو صدر کا کہنا تھا، ’’میں نہیں جانتا۔ آپ جانتے ہیں اس بارے میں کسے معلوم ہو سکتا ہے۔ لیکن میں یہ کہ سکتا ہوں کہ بہت سے لوگ موجود ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہیں اس بارے میں کچھ پتا نہیں تھا۔‘‘

امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک ارکان یہ اصرار کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کو امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کی تیار کردہ رپورٹ کو تسلیم کر لینا چاہئیے۔

ڈیموکریٹک کانگریس مین ایڈم شیف نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات نہایت اہم ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سعودی عرب کی طرف سے خشوگی کے قتل کے معاملے کو دبانے کا حصہ نہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سعودی عرب اور خاص طور پر سعودی ولی عہد کی دنیا بھر میں رسوائی ہوئی ہے۔

سی آئی اے جس نتیجے پر بھی پہنچی ہو، محکمہ خارجہ کا اصرار ہے کہ اس بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکی ہے کہ خشوگی کے قتل کا حکم کس نے دیا تھا۔ تاہم رپبلکن سینیٹر رائے بلنٹ کا کہنا ہے کہ ہمیں انتظار کرنا چائیے کہ صدر منگل کے روز اس بارے میں کیا بیان دیتے ہیں۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ اگر امریکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عمومی طور پر اور خاص طور پر ایران کے حوالے سے کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی، جس کا کردار انتہائی غیر مناسب رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس ساری صورت حال کے تناظر میں ہمیں جمال خشوگی کی ہلاکت پر سوچ سمجھ کر مؤقف اپنانا ہو گا۔

صدر ٹرمپ البتہ سعودی عرب کے ساتھ امریکی تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب میں امریکہ کے لئے بہت سی ملازمتیں، کاروبار اور اقتصادی پیش رفت ہوتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG