رسائی کے لنکس

logo-print

'غریب ہی غریب کے کام آتا ہے'


'سکینہ گِرل' کے قاضی منان

اور جب کوئی غریب ریستوارن کا پھیرا نہیں کرتا، کھانا لے کر منان خود مقامی شیلٹرز اور گرجا گھر پہنچ جاتے ہیں؛ اور قریبی پارکس میں کھانے اور کپڑے تقسیم کرتے ہیں۔

جب 1996ء میں پاکستانی نژاد قاضی منان امریکہ آئے، وہ ایک مفلس نوجوان تھے جو خوش حالی کا صرف خواب ہی دیکھ سکتے تھے۔ روزگار کے حصول کے لیے اُنھوں نے رات دن کئی مشکل کام کیے، پیسے بچائے اور امریکہ میں رہنے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے کے علاوہ کچھ کارآمد گرُ سیکھے۔

اُن کی محنت رنگ لائی۔ بیس سے زیادہ برس کے بعد اب وہ ایک کامیاب کاروبار کے مالک ہیں، اور وائٹ ہائوس سے چند ہی بلاک دور معروف پاکستانی بھارتی ریستوران چلاتے ہیں۔

تاہم، اُن کی کہانی نامکمل سی لگتی ہے، آیا وہ ہر روز اپنے ریستوران میں کرتے کیا ہیں۔

منان بے گھر افراد کو مفت کھانا فراہم کرتے ہیں، اور ضرورتمندوں کی حاجت روائی اور دلجوئی کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ وہ دینِ اسلام کے اصولوں کی بجا آوری کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے۔

بقول اُن کے ''مجھے پتا ہے کہ جو کچھ میں کرتا ہوں اس پر خدا مجھ پر مہربان ہے، چونکہ میں یہ کام صاف دلی سے کرتا ہوں، میرا اس کے علاوہ کوئی مقصد نہیں ماسوائے اس کے کہ بغیر کسی انعام اور شاباشی کے دوسروں کے کام آئوں۔ مجھے کسی انعام کی ضرورت نہیں۔ مجھے پیسے کی لالچ نہیں۔ بس میں خدا کی خوش نودی حاصل کرنا چاہتا ہوں''۔

منان غریبوں کی مدد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اُن کی پرورش پاکستان کے ایک غریب علاقے میں ہوئی، اُنھیں پتا ہے کہ بھوکا رہنے کا کیا مطلب ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ''ہم نو بھائی بہن تھے، اور (ہمارے پاس) کھانے کے لیےکچھ نہیں ہوا کرتا تھا۔۔۔جب آپ غریب ہوتے ہیں، اور آپ کے پاس ضرورت کی چیزیں نہیں ہوتیں جو دوسروں کے پاس ہیں، جب یہ چیزیں آپ کو مل جائیں، آپ آسودگی محسوس کرتے ہو، آپ دوسروں میں بانٹے ہو''۔

وہ امریکہ کے دارالحکومت میں لموزین ڈرائیور کے طور پر بھی کام کرچکے ہیں۔ وہ رات دن، ہر موسم میں، سڑکوں پر بے گھر اور بے سہارا لوگوں کو دیکھتے تھے، جو کچرے کے ڈبوں میں کھانا تلاش کرتے تھے۔

اس تجربے نے اُن کی آنکھیں کھول دیں۔

بقول اُن کے، ''میں نہیں چاہتا کہ کوئی اور اس غربت سے گزرے جو میں نے دیکھی ہے۔۔۔ میں اُن کو خوشی دینا چاہتا ہوں کہ وہ بیکار نہیں کارآمد فرد ہیں، تاکہ وہ آئیں، میرے ریستوران میں بیٹھیں اور عزت کے ساتھ کھانا کھائیں''۔

اُن کا پیغام بالکل سادہ ہے۔ 'سکینہ حلال گرِل' آئیں، کھانا کھائیں، بیت الخلا جائیں، اور تب تک ریستوران میں بیٹھے رہیں جب تک آپ کا دل کرے۔ اُنھوں نے ریستوران کا نام اپنی مرحوم والدہ کے نام پر رکھا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ''ہم اُسی عزت کے ساتھ پیش آئیں گے جیسے ہم پیسے ادا کرنے والے گاہک کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ ہم آپ کو ایک ہی خاندان کا فرد خیال کرتے ہیں''۔

مارشل لوزیر ایک بے گھر شخص ہیں۔ وہ گزشتہ آٹھ ماہ سے، ہر روز ریستوران آتے ہیں۔

منان کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ''میرے خیال میں وہ ایک فرشتہ صفت انسان ہیں۔ وہ ایک اچھا انسان ہے''۔

وہ کہتے ہیں کہ ''میں کئی دن سے بھوکا تھا۔ میں کسی معجزےکی تلاش میں تھا۔ پھر وہ اچانک نمودار ہوئے، مجھے اپنا کارڈ دیا اور دوپہر کے کھانے کی دعوت دی۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میں نے وہاں پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔ اور تب سے میں یہاں آتا رہتا ہوں''۔

اُنھوں نے بتایا کہ سال 2013جب اُنھوں نے ریستوران کھولا، وہ اب تک اندازاً 80000 مفت کھانے تقسیم کرچکے ہیں۔

اور جب کوئی غریب ریستوارن کا پھیرا نہیں کرتا، کھانا لے کر منان خود مقامی شیلٹرز اور گرجا گھر پہنچ جاتے ہیں؛ اور قریبی پارکس میں کھانے اور کپڑے تقسیم کرتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG