رسائی کے لنکس

logo-print

ورجینیا کے شہر برک کے ایک چرچ میں نماز عید


سینٹ اینڈریوز چرچ، برک

امریکی مسلمانوں نے منگل اور بدھ کے روز عید الاضحیٰ کی نماز ادا کی، جو خوشی کا تہوار حج کے فرض کی ادائگی کے دوسرے روز آتا ہے۔ حج ایمان کے چار اہم ارکان میں سے ایک ہے، جس کے باعث اس عید کی بڑی فضیلت ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کے قریب رہنے والے کچھ مسلمانوں نے منگل کی صبح چرچ میں نماز عید ادا کی۔

ورجینیا کے شہر برک کے ’پیس اسلامک سینٹر‘ میں گنجائش سے زیادہ لوگ آتے ہیں۔ ماضی کی روایت کے مطابق، اضافی اجتماع کو قریبی ’سینٹ انڈریوز اپسکوپل چرچ‘ میں نماز عید پڑھائی جاتی ہے۔

یوسف زروال مراکشی نژاد امریکی مسلمان ہیں۔ اُنہوں نے چرچ میں نماز عید کی ادائگی کا خیرمقدم کیا ہے۔

زروال نے کہا ہے کہ ’’ہمیں عبادت اور نماز عید ادا کرنے کا موقع ملتا ہے، جس کا مقصد خدا کا قرب حاصل کرنا ہے، چاہے عبادتگاہ کوئی بھی ہو۔ ذاتی طور پر، میں اُس پیغام کا حصہ بنتا ہوں کہ اگر رواداری دیکھنی ہو تو اِس برادری کو دیکھئے‘‘۔

ریورنڈ ٹِم ہیفلن، ’سینٹ انڈریوز‘ کے سیکنڈ ریکٹر ہیں۔ اُن کے بقول، عبادت کے لیے چرچ کی جگہ فراہم کرنا بین المذاہب مکالمے اور رواداری کو فروغ دینا ہے۔

ہیفلن نے کہا ہے کہ ’’ہم سارے اہل کتاب ہیں، چاہے یہودی ہوں، مسلمان یا مسیحی۔ اس لیے میرے لیے الہامی کتاب کے ماننے والے فرد کو خوش آمدید کہنا عبادت کا درجہ رکھتا ہے، چونکہ چرچ سے خدا ہی کی عبادت کی جاتی ہے‘‘۔

عید الاضحی قربانی کا تہوار ہے جو حج کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

مسلمانوں کا ایمان ہے کہ آزمائش کے وقت خدا کی جانب سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے بیٹے اسماعیل کو قربان کرنے کا حکم ملا، تو حضرت اہراہیم نے حکم کی تعمیل میں دیر نہیں لگائی۔ لیکن، خدا تعالیٰ نے اُن کے بیٹے کو بچا لیا اور اُن کی جگہ ایک بھیڑ ذبح ہوئی۔ مسیحی اور یہودی تعلیمات میں حضرت ابراہیم کو ’ابراہم‘ کہا جاتا ہے، اور اُن کی آزمائش کی تعظیم کی جاتی ہے۔

نماز عید کے بعد متعدد مسلمانوں نے سنت ابراہیمی ادا کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی دی؛ جس کے لیے لازم ہوتا ہے کہ غریبوں کا حصہ اُن تک پہنچایا جائے۔ عید کا مقصد نماز عید پڑھنے اور کھانا تقسیم کرنے کے علاوہ ایک دوسرے کو تحائف دینا اور خوشی میں شریک کرنا شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG