رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامرخان ڈیون الیگزینڈر کا سامنا کریں گے


پروفیشنل باکسرعامرخان اس مقابلے میں اپنے' ڈبلیو بی سی سلور ویلٹر ویٹ' ٹائٹل کا دفاع کریں گے جسے جیتنے کے بعد ان کی نظرویلٹر ویٹ کے عالمی چیمپئین فلوئیڈ مے ویدر کےساتھ ممکنہ مقابلےپرہوگی ۔

پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان ہفتے کو لاس ویگاس میں اپنے حریف سابق ویلٹر ویٹ چیمپئین امریکی باکسر ڈیون الیگزینڈر کا سامنا کریں گے۔

یہ مقابلہ 13 دسمبر کو امریکی ریاسٹ نیواڈا کے مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے' ایم جی ایم ' کے گرانڈ گارڈن ارینا میں ہو گا۔

پروفیشنل باکسر عامر اس مقابلے میں اپنے' ڈبلیو بی سی سلور ویلٹر ویٹ' ٹائٹل کا دفاع کریں گے جسے جیتنے کے بعد ان کی نظرویلٹر ویٹ کے عالمی چیمپئین فلوئیڈ مے ویدر کےساتھ ممکنہ مقابلے پرہوگی۔

عامر 31 مقابلوں کے لیے باکسنگ رنگ میں اتر چکے ہیں اور انھوں نےاٹھائیس بار کامیابی سمیٹی ہے ۔

برطانیہ میں بولٹن کے رہائشی عامر خان پچھلے تین ماہ سے امریکہ میں آکلینڈ ورگل سینڑ میں اس فائیٹ کے لیےتربیت حاصل کر رہےہیں ۔

عامر اس لڑائی کو ناقابل تسخیر امریکی باکسرمے ویدر کےخلاف بڑا مقابلہ لڑنے کے لیے تیاری قرار دیتے ہیں ۔

عامر خان اور امریکی باکسر الیگزینڈر میں سےجو بھی ہفتے کے مقابلے کا فاتح ہو گا وہ 47 مقابلوں میں ناقابل شکست باکسر مے ویدرکےخلاف لڑنے کےلیےفرنٹ رنر ثابت ہوگا ۔

'عامر کنگ خان بمقابلہ الیگزینڈر دا کنگ' کو 'رائل مقابلے' کا نام دیا گیا ہے۔ لاس اینجیلس میں ہونے والے اس مقابلے کی تعارفی تقریب میں عامر خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "آئندہ برس 2015 میں امریکی حریف کا سامنا کرنے کے لیے میں خود کو تیار سمجھتا ہوں لیکن فی الحال میری توجہ الیگزینڈر پر مرکوز ہے اس مقابلےکو میں آسان نہیں لوں گا۔'

انھوں نے کہا کہ وہ ایک برس پہلے کے عامر کے مقابلے میں اب زیادہ بہتر باکسر ہیں اور مستقبل میں خود کو مے ویدر اور فلپائینی باکسر مینی پاکییاو کے خلاف لڑنےکا اہل سمجھتے ہیں۔

"اگرچہ باکسنگ کے شائقین اگلے برس فلوئیڈ مے ویدر اور مینی پاکییاو کے کو ایک دوسرے کے مد مقابل لڑتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں جو ایک مہنگی ترین فائٹ ہو گی اوراگر ایسا نہیں ہوتا ہے تووہ مے ویدر کے خلاف میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی فائٹ لڑنے کے لیے تیار ہوں۔"

عامر نے کہا کہ وہ اس میگا مقابلے سے پہلے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔​

عامر خان پچھلے سال الیگزینڈرکے خلاف باکسنگ لڑنے سے انکار کر چکے تھے جو کہ ' آئی بی ایف ویلٹر ویٹ ' کے چیمپئین تھے لیکن عامر اس وقت امریکی باکسرمے ویدر کے خلاف بڑی فائٹ جیتنےکےمنتظر تھے۔

ادھر ڈیون الیگزینڈر جو 'الیگزینڈر دا کنگ' کے نام سے جانے جاتے ہیں، اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے میں ناکام رہے تھے انھیں شان پورٹر کے ہاتھوں شکست کھانی پڑی جبکہ رواں برس یہ اعزاز برطانوی باکسر کیل بروک نے شان پورٹر سے چھین لیا اور اب وہ بھی عامر کی طرح مے ویدر کے ساتھ مقابلے کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔

اسی سال عامر خان ویلٹر ویٹ ڈویژن میں ڈیبیو کے لیے امریکی باکسر فلوئیڈ مے ویدر کے ساتھ لڑنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن 1996 کے اولمپکس سے ناقابل تسخیر چلے آنے والے باکسر مے ویدرنے عامرخان کےساتھ مقابلہ کرنے کے بجائے ارجنٹینا کےباکسر مارکوس میڈینا کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا تھا اورعامر کی خواہش پوری نہیں ہو سکی تھی ۔

تاہم عامر خان نے مئی 2014 میں باکسنگ کی دنیا سے ایک برس کا طویل وقفہ لینے کے بعد امریکی طاقتور باکسر لوئیس کلازو سے لڑنےکا فیصلہ کیا اس مقابلے میں امریکی باکسر کلازو کو شکست دینے کے بعد عامر نے' ڈبلیو بی اے انٹرنیشنل ' باکسر کا اعزاز جیتا تھا اورسلور ویلٹر ویٹ ٹائٹل چھوڑ دیا تھا ۔

عامر اولمپکس کا سلور میڈل جیتنے والے برطانیہ کے سب سے کم عمر باکسر ہیں جنھوں نے 17 برس کی عمر میں اولمپکس کے باکسنگ مقابلےمیں مد مقابل کو ناک آوٹ کیا تھا ۔

عامرخان کو لائیٹ ویلٹرویٹ (کم وزن والے درجے ) میں دو مرتبہ عالمی چیمپئین رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔

عامر نے آٹھ دسمبر کو اپنی اٹھائیسویں سالگرہ ٹریننگ سینٹر میں منائی اس موقع پرذرائع ابلاغ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر وہ اس مقابلے میں الیگزینڈرکو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو انھیں امید ہے کہ باکسنگ کے شائقین کہیں گےکہ "میں مے ویدر اور مینی پاکییاو جیسے عظیم باکسروں کے ساتھ باکسنگ لڑنے کاحقدار ہوں اور شائقین مے ویدر سے مطالبہ کر سکتے ہیں کہ وہ باکسنگ رنگ میں مجھ سے ملاقات کرے اور یہ ان کی طرف سے میری سالگرہ کا تحفہ ہو گا۔"

ایک نجی انٹرویو میں عامر خان نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی لامیئسہ کے لیے بالکل اپنے والد جیسا باپ بننے کی خواہش رکھتے ہیں جنھوں نے آٹھ سال کے بےحد شرارتی عامر کی توانائی کو مثبت سمت میں ڈالنے کے لیے باکسنگ کلب لے جانا شروع کیا تھا جہاں سے میری زندگی میں نظم وضبط کی ابتداء ہوئی آج اس کامیابی کے سفرمیں میرے والد ہی میرے رہنما ہیں ۔

XS
SM
MD
LG