رسائی کے لنکس

امجد صابری کے قتل کی تحقیقات شروع، تدفین جمعرات کو ہوگی

تحقیقاتی ادارے کا ایک اہلکار کراچی میں فائرنگ کا نشانہ بننے والے قوال امجد صابری کی گاڑی سے شواہد جمع کر رہا ہے (اے پی فوٹو)
تحقیقاتی ادارے کا ایک اہلکار کراچی میں فائرنگ کا نشانہ بننے والے قوال امجد صابری کی گاڑی سے شواہد جمع کر رہا ہے (اے پی فوٹو)

گاڑی میں امجد صابری سمیت تین افراد سوار تھے۔ امجد صابری گاڑی خود ڈرائیو کر رہے تھے۔ واقعہ شام چار بجے سے کچھ دیر پہلے لیاقت آباد نمبر 10 پر بکرا پیڑی کے قریب رونما ہوا۔ جائے وقوعہ ان کی رہائش گاہ سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔ وہ نجی ٹی سینٹر تک جانے کے لئے گھر سے نکلے تھے

کراچی میں دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ کا نشانہ بننے والے معروف قوال امجد علی صابری جمعرات کو سپرد خاک کئے جائیں گے۔ ان کی نماز جنازہ دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب ادا کی جائے گی، جبکہ تدفین پاپوش نگر قبرستان میں ہوگی۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سینٹرل، مقدس حیدر نے بدھ کی شام ’وائس آف امریکہ‘ سمیت متعدد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں اس امر کی تصدیق کی کہ ان کی گاڑی ہنڈا سوک وائٹ کلر پر چھ گولیاں داغی گئیں۔ پولیس کو جائے وقوعہ سے پانچ خول ملے ہیں۔ حملہ آور دو تھے جو موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ حملہ آوروں نے تین گولیاں گاڑی کی ونڈ اسکرین پر جبکہ باقی سائیڈ سے فائر کیں۔ حملے میں 30 بور کا پستول استعمال کیا گیا۔‘‘

گاڑی میں امجد صابری سمیت تین افراد سوار تھے۔ امجد صابری گاڑی خود ڈرائیو کر رہے تھے، جبکہ سلیم صابری ان کے برابر والی سیٹ پر اور ایک ساتھی پچھلی نشست پر براجمان تھے۔ انہوں نے پرپل کلر کا کرتا پہنا ہوا تھا۔ پیروں میں سلور کلر کی کڑھی ہوئی چپلیں تھیں۔

امجد صابری کے ماتھے پر بائیں آنکھ کے ذرا اوپر لگنے والی گولی جان لیوا ثابت ہوئی۔ انہیں فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔ تاہم، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز اور ایک لیڈی ڈاکٹر نے ’وی او اے‘ کو بتایا کہ امجد صابری اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی انتقال کرچکے تھے۔

واقعہ شام چار بجے سے کچھ دیر پہلے لیاقت آباد نمبر 10 پر بکرا پیڑی کے قریب رونما ہوا۔ جائے وقوعہ ان کی رہائش گاہ سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔ وہ نجی ٹی سینٹر تک جانے کے لئے گھر سے نکلے تھے۔

امجد صابری کا جسد خاکی ان کی رہائش گاہ لیاقت آباد نمبر چار نزد فرنیچر مارکیٹ پانچ بجے کے بعد پہنچا۔ ان کا گھر نہایت گنجان آباد علاقے میں واقع ہے۔ وہ اپنی والدہ کی وجہ سے پاکستان میں مقیم تھے، حالانکہ ان کے اہل خانہ میں سے بھائی سمیت کئی افراد بیرون ملک مقیم ہیں اور انہیں مستقل طور پر وہاں آنے کا کہہ چکے تھے۔ لیکن اطلاعات کے مطابق، وہ اپنی بوڑھی والدہ کی خدمت کی وجہ سے پاکستان سے باہر نہیں جاتے تھے۔ وہ اپنی گفتگو میں اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے والدہ کو کچھ نہ ہو۔

امجد صابری کے چھوٹے بھائی طلحہ صابری نے بتایا کہ ’’امجد صابری ان دنوں نجی ٹی وی چینل ’سماء‘ سے پیش کئے جانے والے رمضان شو کی نشریات کا حصہ تھے اور اسی شو میں انہوں نے جمعرات کی صبح سحری بھی کی تھی جبکہ منگل کو افطار کے وقت بھی وہ رمضان شو میں موجود تھے جہاں ان کی جانب سے پیش کی گئی ایک نعت ’جب وقت نزاع آئے‘ پر وہ خود اور وہاں موجود تمام افراد زار و قطار رو رہے تھے۔۔۔کیا پتہ تھا کہ ایک دن بعد ہی یہ وقت آجائے گا۔۔۔‘‘

امجد صابری کے گھر پر آنے والے افراد کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ اہل خانہ کے ساتھ ساتھ اہل محلہ اور عزیز و اقارب بھی اس موقع پر زار و قطار روتے رہے۔

امجد صابری کے انتقال کی خبر سنتے ہی متحدہ قومی موومنٹ کے متعدد رہنما ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے۔ ان میں نامزد میئر کراچی وسیم اختر، امجد اللہ خان، امین الحق، اظہار الحسن اور رؤف صدیقی سمیت دیگر شامل ہیں۔

امجد صابری کی میت اہل خانہ کو دکھائے جانے کے بعد سرد خانے منتقل کردی گئی۔ انہیں کل دوپہر ظہر کی نماز کے بعد پاپوش نگر میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزمان کو جلد گرفتار کرنے اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔

گورنر سندھ عشرت العباد خان نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعہ شہر کے امن کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے۔

ایم کیو ایم نے امجد صابری کے قتل پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

امجد صابری، جائے وقوع اور رہائش گاہ کی تصویری جھلکیاں

امجد صابری کے انتقال پر زار و قطار روتے ہوئے ان کے اہل محلہ اور عزیز و اقارب
1/15 امجد صابری کے انتقال پر زار و قطار روتے ہوئے ان کے اہل محلہ اور عزیز و اقارب
مزید Show less
موت کے وقت امجد صابری اسی گاڑی میں سوار تھے۔ ونڈاسکرین پر گولیوں کے نشانات نمایاں ہیں
2/15 موت کے وقت امجد صابری اسی گاڑی میں سوار تھے۔ ونڈاسکرین پر گولیوں کے نشانات نمایاں ہیں
مزید Show less
فائرنگ کا نشانہ بننے والی امجد صابری کی گاڑی جائے وقوعہ پر کھڑی ہے
3/15 فائرنگ کا نشانہ بننے والی امجد صابری کی گاڑی جائے وقوعہ پر کھڑی ہے
مزید Show less
ونڈ اسکرین کی ایک اور تصویر
4/15 ونڈ اسکرین کی ایک اور تصویر
مزید Show less
پولیس کے اعلیٰ حکام گاڑی کا معائنہ اور واقعے کی تفصلات حاصل کرتے ہوئے
5/15 پولیس کے اعلیٰ حکام گاڑی کا معائنہ اور واقعے کی تفصلات حاصل کرتے ہوئے
مزید Show less
جائے وقوع کا ایک تفصیلی منظر
6/15 جائے وقوع کا ایک تفصیلی منظر
مزید Show less
امجد صابری کا جسد خاکی رہائش گاہ لانے والی ایمبولیس
7/15 امجد صابری کا جسد خاکی رہائش گاہ لانے والی ایمبولیس
مزید Show less
امجد صابری کے بھائی طلحہ صابری اور دیگر رشتے دار دعا کرتے ہوئے
8/15 امجد صابری کے بھائی طلحہ صابری اور دیگر رشتے دار دعا کرتے ہوئے
مزید Show less
غم سے نڈھال ایک قریبی رشتے دار
9/15 غم سے نڈھال ایک قریبی رشتے دار
مزید Show less
ڈرائیونگ سیٹ جس پر امجد صابری گولیوں کا نشانہ بنے
10/15 ڈرائیونگ سیٹ جس پر امجد صابری گولیوں کا نشانہ بنے
مزید Show less
رہائش گاہ پر رشتے داروں کی آمد کا ایک منظر
11/15 رہائش گاہ پر رشتے داروں کی آمد کا ایک منظر
مزید Show less
اداکار شہزاد رضا
12/15 اداکار شہزاد رضا
مزید Show less
غم سے نڈھال کچھ اور قریبی افراد
13/15 غم سے نڈھال کچھ اور قریبی افراد
مزید Show less
گھر کے باہر کھڑے اہل محلہ اور امجد صابری کے چاہنے والے
14/15 گھر کے باہر کھڑے اہل محلہ اور امجد صابری کے چاہنے والے
مزید Show less
غم سے بری طرح نڈھال ایک قریبی عزیز جو روتے روتے بے ہوش ہوگئے
15/15 غم سے بری طرح نڈھال ایک قریبی عزیز جو روتے روتے بے ہوش ہوگئے
مزید Show less
Previous slide
Next slide

This item is part of
​
XS
SM
MD
LG