رسائی کے لنکس

logo-print

پناہ گزینوں سے متعلق موجودہ حکمت عملی ناکام ہو رہی ہے: ایمنسٹی


ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد پہلی مرتبہ 2013 میں اپنے گھروں سے زبردستی نکالے گئے افراد کی تعداد پانچ کروڑ سے تجاوز کر گئی۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے کہا ہے کہ دنیا میں پناہ گزینوں کے مسائل سے نمٹنے کے لیے موجودہ حکمت عملیاں ناکام ہو رہی ہیں اور ان میں تبدیلی کی جائے۔

پناہ گزینوں کے عالمی دن سے قبل جاری کی گئی ایک رپورٹ میں ایمنسٹی نے کہا ہے کہ دنیا میں پناہ گزینوں کے بحران میں شدت پیدا ہو رہی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ ایسا نظام وضع کیا جائے جو پناہ گزینوں کی حفاظت کرے اور ان کا بوجھ ایک سے زائد ممالک میں بانٹے۔

ایمنسٹی نے کہا کہ عالمی برادری پناہ گزینوں کے بحران پر ایک سربراہ کانفرنس منعقد کرے اور ان کے مسائل سے نمٹنے کے لیے فعال نظام تشکیل دے۔ اس کا کہنا تھا کہ ممالک کو مصیبت میں پھنسے پناہ گزینوں کی زندگیاں بچانے، انسانی سمگلنگ روکنے، غیر ملکیوں سے نفرت کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہونا چاہیئے اور ایک عالمی فنڈ برائے مہاجرین قائم کرنا چاہیئے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد پہلی مرتبہ 2013 میں اپنے گھروں سے زبردستی نکالے گئے افراد کی تعداد پانچ کروڑ سے تجاوز کر گئی۔

ایمنسٹی کے مطابق شام میں نصف سے زائد آبادی بے گھر ہے، جہاں پناہ گزینوں کا سب سے بڑا بحران جاری ہے۔ شام میں کئی سال سے حکومتی فوسز باغیوں اور عسکریت پسندوں کی پیش قدمی سے نبرد آزما ہیں۔

ایمنسٹی کے بقول شام میں پناہ گزینوں کے بحران کی وجہ سے اس وقت لبنان میں ہر پانچ میں سے ایک فرد شامی ہے۔

تنظیم نے کہا ہے کہ افریقہ میں لوگ تشدد سے بچنے کے لیے جنوبی سوڈان، جمہوریہ وسطی افریقہ، نائیجیریا اور برونڈی سے فرار ہو رہے ہیں، جس سے اس براعظم پر پناہ گزینوں میں اضافہ ہوا۔ افریقہ میں پہلے سے صومالیہ، ایتھوپیا، سوڈان اور کانگو سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین موجود ہیں۔ ایمنسٹی کے بقول افریقی پناہ گزینوں کے لیے انسانی امداد بہت کم ہے۔

رپورٹ میں یورپ میں پناہ لینے والے افراد کا بھی جائزہ لیا گیا جو بحیرہ روم کو عبور کرکے پورپ پہنچنے کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگاتےہیں، جس سے سینکڑوں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں بنگلہ دیش اور میانمار سے تنگ اور بوسیدہ کشتیوں پر سفر کرکے تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا پہنچنے والے پناہ گزینوں کی حالت زار کا جائزہ بھی لیا، جنہیں ان ممالک نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان لوگوں کو ایک ہفتے تک خوراک، پانی اور دیگر ضروری اشیا کے بغیر ایک ہفتے تک کھلے سمندر میں چھوڑ دیا گیا، جس کے بعد فلپائن، انڈونیشیا، اور ملائیشیا نے انہیں اپنے ملک میں عارضی پناہ دینے پر اتفاق کیا تھا۔

ایمنسٹی نے کہا کہ یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا کے بحران میں انسانی سمگلروں کا ہاتھ ہے مگر حکومتوں کو پھر بھی پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کرنا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG