رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں روسی بمباری جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتی ہے: ایمنسٹی


ماسکو تواتر سے ان الزامات کو صریحاً مسترد کرتا رہا ہے کہ عام شہریوں کو وہ نشانہ بنا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ رہائشی علاقوں کو بمباری سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی احتیاط سے کام لے رہا ہے۔

انسانی حقوق کی موقر بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ شام میں روسی بمباری جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہے کیونکہ اس کے فضائی حملوں میں متعدد عام شہری ہلاک ہوئے۔

بدھ کو تنظیم نے یہ بات ایسے شواہد کی بنیاد پر کہی جس کے مطابق روسی فضائی حملے انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتے ہیں۔

"شام میں روسی فضائی حملوں میں سیکڑوں عام شہری ہلاک ہوئے اور یہ رہائشی علاقوں میں بڑی تباہی کا باعث بنے۔ اس میں گھروں، ایک مسجد اور ایک مصروف بازار کے علاوہ طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔۔۔ یہ حملے انسانی حقوق کے بین الاقومی قوانین کی خلاف ورزی کا شواہد کو ظاہر کرتے ہیں۔"

روس نے 30 ستمبر سے شام میں عسکریت پسندوں کے خلاف یہ کہہ کر حملے شروع کیے تھے کہ کریملن مشرق وسطیٰ میں اپنے مرکزی اتحادی شام کے صدر بشار الاسد کو شدت پسند گروپ داعش کے خلاف لڑائی میں مدد فراہم کرنا چاہتا ہے۔

ماسکو تواتر سے ان الزامات کو صریحاً مسترد کرتا رہا ہے کہ عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ رہائشی علاقوں کو بمباری سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی احتیاط سے کام لے رہا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اس دعوے کو شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والے مبصر گروپ کی اس رپورٹ سے بھی تقویت ملتی ہے جس میں کہا تھا کہ تھا ک ستمبر سے نومبر تک شام میں روسی فضائی حملوں میں کم ازکم دو سو عام شہری اور لگ بھگ ایک درجن جنگو ہلاک ہوئے۔

روس کی طرف سے بین الاقوامی تنظیم کے اس رپورٹ پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

XS
SM
MD
LG