رسائی کے لنکس

logo-print

ایران میں احتجاج مخالف کریک ڈاؤن میں 304 افراد ہلاک ہوئے: ایمنسٹی


ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت مخالف احتجاج کرنے والوں کے خلاف انتہائی جارح کارروائی کی گئی اور کریک ڈاؤن میں سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا — فائل فوٹو

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران انتظامیہ کی کارروائی کے دوران چار روز کے دوران 304 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پیر کو جاری ہونے والے بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف احتجاج کرنے والوں کے خلاف انتہائی جارح کارروائی کی گئی اور کریک ڈاؤن میں سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔

واضح رہے کہ ایران نے نومبر کے دوسرے ہفتے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 فی صد تک اضافہ کیا تھا جس کے بعد ملک گیر احتجاج شروع ہو گیا تھا۔

حکومت نے احتجاج پر قابو پانے کے لیے ایک ہفتے تک انٹرنیٹ بھی بند رکھا جس سے احتجاج کے حوالے سے معلومات کافی دیر سے سامنے آنا شروع ہوئیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ایران نے سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان اور طلبہ کی گرفتاریاں بھی سامنے آئیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق متعدد افراد کے بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران کے اداروں نے سیکڑوں افراد کا قتل عام کیا جب کہ ایسے اقدامات کیے گئے کہ ملکی سطح پر خوف کے باعث کوئی اس احتجاج کے خلاف کارروائیوں پر بات نہ کرے۔

اقوام متحدہ کے بیان کا حوالہ دے کر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ہلاک شدگان میں 12 بچے بھی شامل ہیں۔

ایران میں صرف دس فیصد آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی میسر
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:42 0:00

ایران کے وزیرِ داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک میں ہونے والے حالیہ پرتشدد مظاہروں کے دوران مظاہرین نے 731 بینکوں اور 140 سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش کیا۔

وزیرِ داخلہ نے کہا تھا کہ مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کے 50 دفاتر اور چوکیوں پر حملے ہوئے جب کہ 70 پیٹرول پمپ بھی جلائے گئے۔

انہوں نے تصدیق کی تھی کہ ملک بھر میں دو لاکھ سے زائد افراد نے ان پرتشدد مظاہروں میں حصہ لیا۔

ایران میں 2009 کے انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف اٹھنے والی سیاسی تحریک کے بعد سے اب تک ہونے والا یہ سب سے بڑا احتجاج قرار دیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت ان افراد کی ہے جن کو گولیوں سے نشانہ بنایا گیا جبکہ اکثر افراد کو سر، گردن یا جسم کے ایسے اعضا پر گولیاں ماری گئی ہیں جن سے ان کی موت ہو جائے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیکیورٹی ادارے اب بھی مظاہروں میں شریک افراد کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہے جبکہ انسانی حقوق کے رضا کار بھی بڑی تعداد میں زیر حراست ہیں۔

خیال رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے قبل ازیں نومبر کے آخر میں کہا تھا کہ اس احتجاجی لہر میں 143 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں کہا گیا تھا کہ 208 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

ایران کے سیکیورٹی اداروں نے پُرتشدد احتجاج میں امریکہ کے خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) سے رابطے کے الزام میں بھی کئی افراد کو گرفتار کیا تھا۔

خفیہ اداروں کی وزارت کے مطابق جن افراد کو گرفتار کیا گیا ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سی آئی اے کی فنڈنگ سے کئی ممالک میں تربیت حاصل کی تھی۔ اس تربیت کے دوران ان افراد کو 'سٹیزن جرنلسٹس' بننے کی تربیت دی گئی۔

رواں ماہ کے آغاز میں امریکی نمائندہ خصوصی برائے ایران، برائن ہُک نے کہنا تھا کہ پیٹرول کے نرخ میں اضافے کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران ہو سکتا ہے ایرانی سیکیورٹی فورسز نے 1000 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہو۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہزاروں ایرانی زخمی بھی ہوئے جب کہ کم از کم 7000 افراد ایران کے سیکیورٹی اداروں کی قید میں ہیں۔

یاد رہے کہ ایران تیل پیدا کرنے والے دنیا کے چند بڑے ملکوں میں شامل ہے۔ وہ اپنے شہریوں کو رعایتی نرخوں پر تیل فراہم کرتا ہے۔ اب تک انہیں 10000 ریال فی لٹر تیل مل رہا تھا جو امریکی ڈالر میں نو سینٹ کے مساوی ہے۔ یہ وینزویلا کے بعد دنیا میں سب سے کم قیمت ہے۔

پچاس فی صد اضافے کے بعد اب ایران میں پیٹرول کی فی لٹر قیمت 15000 ریال ہو گئی ہے جو تقریباً 13 امریکی سینٹ کے مساوی ہے۔ گویا اضافے کے بعد بھی ایران میں پیٹرول کی قیمت وینزویلا کے بعد سب سے کم ہے۔ اس وقت ایران کے بعد تیسرے نمبر پر سوڈان ہے جہاں پیٹرول کی قیمت 14 امریکی سینٹ فی لٹر ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG