رسائی کے لنکس

logo-print

اردن میں خواتین سے امتیازی سلوک پر عالمی ادارہ فکر مند


درآمنہ کی ڈائریکٹر منائل ابراہیم

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اردن میں خواتین کے سرپرست مردوں کی جانب سے مبینہ طور پر روا رکھے گئے سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ مردوں کی حکم عدولی یا غیر مردوں سے تعلق کے الزام میں خواتین کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق اگر کسی خاتون پر غیر مرد سے تعلق کا الزام لگے تو اسے اپنا کنوارہ پن ثابت کرنے کے لیے تضحیک آمیز ٹیسٹ سے گزارا جاتا ہے۔ جب کہ الزام ثابت ہونے پر انہیں جیل بھیج دیا جاتا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ غیر شادی خاتون اگر حاملہ ہو جائے تو اسے اس کے بچے سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اردن کی حکومت پر زور دیا ہے کہ ان واقعات کا نوٹس لے اور صوبائی گوررنرز کو اس ضمن میں اختیارات کے ناجائز استعمال سے روکے۔ تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ناانصافی پر مبنی 'میل گارڈین شپ' کا نظام بھی ختم کیا جائے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق عمان میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ایمنسٹی کی مشرق وسطیٰ کی ڈائریکٹر حبا مورائف نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ خواتین کو اپنی زندگی کے بارے میں آزادانہ فیصلے کرنے کی اجازت دے۔

اردون کا درآمنہ یا سیف ہاؤس
اردون کا درآمنہ یا سیف ہاؤس

اردن کے قانون کے مطابق 30 سال سے کم عمر خواتین کو شادی کرنے سے قبل مرد سرپرست کی رضامندی ضروری ہے۔ جب کہ شادی سے پہلے یا بعد میں کسی غیر مرد سے جنسی تعلقات کے جرم میں تین سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے صنفی تشدد کے خلاف حکومتی کوششوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔ جن میں خواتین کے لیے شیلٹر ہومز کی تعمیر بھی شامل ہے۔ تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ خواتین سے متعلق امتیازی قوانین کو ختم کیا جائے۔

عمان میں 'درآمنہ' کے نام سے خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے سیف ہاؤس قائم ہے۔ یہاں خواتین کو نفسیاتی مسائل کے علاوہ قانونی معاونت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

ادارے کی ڈائریکٹر مانل ابراہیم کا کہنا ہے کہ جولائی 2018 سے لے کر اب تک نفسیاتی مسائل سے دوچار 86 میں سے 64 خواتین کو دوبارہ ان کے خاندان سے ملا دیا گیا ہے۔ ان کے بقول خاندان کے دیگر افراد کو بھی ادارے میں آنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اور ان خواتین کا خاندان کے ساتھ تصفیہ بھی کرایا جاتا ہے۔

سیف ہاؤس کا اندرونی منظر
سیف ہاؤس کا اندرونی منظر

ایمنسٹی نے فروری میں جاری ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ادارے کے عہدیداروں نے صرف 22 خواتین سے ملاقات کی جو جویدہ جیل میں بغیر کسی الزام یا مقدمے کے گھر سے بھاگنے یا غیر قانونی جنسی تعلقات رکھنے کے الزام میں حراست میں لی گئی تھیں۔

حراستی مراکز میں موجود بہت سی خواتین اب بھی اس انتظار میں ہیں کہ ان کے مرد سرپرست ان کی ضمانت کے لیے ضرور آئیں گے۔

ایمنسٹی سے انٹرویو میں ایک خاتون کا کہنا تھا کہ انہیں ان کے والد کی شکایت پر حراست میں لیا گیا تھا۔ والد نے اس پر ایک غیر مرد کے ساتھ گھر سے بھاگنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ دراصل وہ اپنے والد کی بدسلوکی سے بچنے کے لئے گھر سے بھاگنے پر مجبور ہوئی۔

ایمنسٹی کے مطابق چارخواتین کا کہنا تھا کہ شادی سے قبل حاملہ ہونے کی اطلاع پرانہیں اسپتال کے عملے نے پکڑکر پولیس کے حوالے کیا جس نے انہیں حراست میں لیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG