رسائی کے لنکس

logo-print

غزہ پر اسرائیلی حملہ ’شفاف‘ تحقیقات کی جائے: ایمنسٹی


ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نئی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ’آباد بستیوں پر بے دریغ حملے‘ کیے گئے۔ ان حملوں کے باعث نہ صرف غزہ میں ’خوفناک تعداد میں ہلاکتیں‘ ہوئیں، بلکہ علاقے میں شدید تباہی بھی پھیلی

حقوق ِانسانی کی علمبردار عالمی تنظیم، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ رواں برس جولائی اور اگست میں اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں حماس پر کیے گئے حملوں کے بارے میں ’شفاف‘ تحقیقات کی جائیں۔ یہ حملے 50 روز تک جاری رہے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نئی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ’آباد بستیوں پر بے دریغ حملے‘ کیے گئے۔ ان حملوں کے باعث نہ صرف غزہ میں ’خوفناک تعداد میں ہلاکتیں‘ ہوئیں بلکہ علاقے میں شدید تباہی بھی پھیلی۔

اسرائیل کی وزارت ِخارجہ نے اس رپورٹ کو ’شدید تعصب‘ پر مبنی قرار دے کر اسے رد کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزارت ِخارجہ کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں اسرائیل پر بغیر کسی ثبوت کے الزام تراشی کی گئی ہے اور اس رپورٹ میں حماس کی جانب سے کیے گئے جنگی جرائم کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

رواں برس جولائی اور اگست میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کیے جانے والے حملوں میں 2,100 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ ان حملوں میں 67 اسرائیلی فوجی اور چھ اسرائیلی شہری بھی ہلاک ہوئے تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں، مگر رپورٹ میں زیادہ زور غزہ میں اسرائیلی بم باری پر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے ان حملوں سے پیشتر عام شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کے اقدامات کو ملحوظ ِخاطر نہیں رکھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے غزہ پر اسرائیلی حملوں سے متعلق اپنی رپورٹ میں بہت سے کیسز کی نشاندہی بھی کی ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ میں بہت سی عمارات اور مختلف جگہوں پر کسی جنگجو کی موجودگی کے امکان پر حملہ کیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کسی بھی جگہ پر فوجی حملہ کرنے کے لیے یہ جواز ’ناکافی‘ اور ’غیر مناسب‘ ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل ان حملوں کو منسوخ یا موٴخر بھی کر سکتا تھا یا پھر اسرائیل کو ان حملوں کی حکمت ِعملی کا از سر ِنو جائزہ لینا چاہیئے تھا، تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جاتا کہ ان حملوں میں عام فلسطینی شہریوں کا کم سے کم جانی و مالی نقصان ہو۔

XS
SM
MD
LG