رسائی کے لنکس

logo-print

فرانس: ٹرین میں حملہ امریکی شہریوں نے ناکام بنادیا


فرانس کے وزیر داخلہ برنارڈ کازنیوف نے بتایا کہ حملہ آوروں کو غیر مسلح کرنے میں دو امریکی شہریوں نے مدد کی۔ " ان کی ہمت کے بغیر ہمیں کسی بڑے اندوہناک سانحے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔"

فرانس میں ایک ریل گاڑی میں فائرنگ کر کے تین لوگوں کو زخمی کرنے والے مسلح شخص کو دو امریکی مسافروں نے قابو کر کے غیر مسلح کر دیا۔

فرانسیسی حکام کے مطابق تاحال فائرنگ کے محرکات کا علم نہیں ہو سکا ہے اور انسداد دہشت گردی پولیس اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ ریل گاڑی ایمسٹرڈیم سے پیرس جا رہی تھی۔

فرانس کے وزیر داخلہ برنارڈ کازنیوف کا کہنا تھا کہ مسلح شخص کو شمالی فرانسیسی قصبے اراس میں گرفتار کر لیا گیا اور پولیس نے اس کی شناخت مراکش سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ شخص کے طور پر کی ہے۔ اس کے پاس ایک خودکار ہتھیار اور ایک چاقو موجود تھا۔

وزیر داخلہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حملہ آوروں کو غیر مسلح کرنے میں دو امریکی شہریوں نے مدد کی۔ " ان کی ہمت کے بغیر ہمیں کسی بڑے اندوہناک سانحے کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔"

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور کو قابو کرنے والے امریکی فورسز کے دو اہلکار ہیں جب کہ اس واقعے میں دو امریکی شہری زخمی ہوئے۔

حکام نے صدر براک اوباما کی طرف سے ان لوگوں کی ہمت پر ان کا "تہہ دل سے شکریہ" کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ صدر نے اس واقعے کے متاثرین کے نیک تمناؤں کا پیغام دیا ہے۔

فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ امریکی شہری امریکی میرینز کے اہلکار ہیں۔ امریکی فوجی حکام نے ایک امریکی فوجی کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کی حالت خطے سے باہر ہے۔

جس وقت فائرنگ کا یہ واقعہ پیش آیا اس وقت برق رفتار ٹرین بلیجیئم سے گزر رہی تھی۔

بیلجیئم کے وزیراعظم شارلس میشل نے اسے "دہشت گرد حملہ" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اور فرانسیسی صدر فرانسواں اولاں اس کی تحقیقات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG