رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں ایک فنکار کا مستقبل ’ففٹی ففٹی دال چاول ‘


ماجد جہانگیر، پس منظر سے جھانکتا ماضی

ماضی کے نامور مزاحیہ اداکار ماجد جہانگیر، ماضی کے شہرت یافتہ پروگرام ’ففٹی ففٹی‘ کے بعد ان دنوں ’ففٹی ففٹی‘ دال چاول بیچ رہے ہیں۔ دراصل ’ففٹی ففٹی دال چاول‘ ان کے پچھلے ہفتے ہی شروع ہونے والے ریستوران کا نام ہے۔

کامیڈی شو ’ففٹی ففٹی‘ 80 کی دہائی کے اوائل میں پی ٹی وی سے دکھایا جانے والا انتہائی مشہور اور ہر دل عزیز کامیڈی شو تھا۔ اس دور کے معاشرے کی تاریخ، عام زندگی کے مسائل اور ایک عام آدمی کی سادہ سی جھلک دیکھنی ہو تو ففٹی ففٹی سے بہتر اور کوئی ’آئینہ‘ نہیں۔

درجن بھر سے زائد فنکاروں نے اس پروگرام میں اداکاری کے رنگ بھرے لیکن ماجد جہانگیر ان میں سب سے نمایاں رہے۔ کبھی وہ قصاب بنے، کبھی پولیس اہلکار، کبھی نیوز کاسٹر تو کبھی غریب اور مزدور ۔ ان کا ہر کردار حقیقت کے اتنا قریب ہوتا کہ لوگ یہی سمجھتے کہ ماجد جہانگیر اصل میں ایسے ہی ہیں جیسے یہ کردار۔ یہی ماجد جہانگیر کا اصل کمال تھا ۔ انہی کرداروں سے جڑی کچھ دلچسپ باتیں انہوں نے وائس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو میں شیئر کیں ۔

وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے
وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے

انہوں نے بتایا "ان کرداروں کی کامیابی کی اصل وجہ یہ تھی کہ میں نے ان میں حقیقی رنگ بھرنے کی کوشش کی۔ ہر کردار کرنے سے پہلے میں معاشرے میں موجود اس کردار کا گہرا مشاہدہ کرتا اس کے بعد خود کو اسی کردار میں ڈھالنے کی کوشش کرتا۔ مثلاً ایک خاکے میں ،میں قصاب بنا تو اس کردار کی ادائیگی سے پہلے ایک حقیقی قصاب کے پاس گیا اور اس کا گھنٹوں گہرائی سے مشاہدہ کیا کہ وہ کسی طرح بولتا اور اٹھتا بیٹھتا ہے۔ اس کا گیٹ اپ کیسا ہوتا ہے وہ چھریاں، بغدا اور سری پائے کس طرح بناتا ہے اور کس طرح لوگوں سے ڈیل کرتا ہے۔ پھر کیمرے کے سامنے آتا تو میرے ذہن میں وہی قصاب ہوتا ۔ میرا مشاہدہ میری رہنمائی کرتا اور یوں کردار میں حقیقی رنگ بھر جاتا۔"

ماجد جہانگیر نے کہا کہ "قصاب کا کردار اتنا کامیاب ہوا کہ لوگ مجھےحقیقی قصاب سمجھنے لگے۔ اسٹوڈیو میں کانا پھوسی ہونے لگی کہ لگتا ہے ماجد بھائی اصل قصاب ہیں۔ یہ باتیں اتنی زیادہ ہونے لگیں کہ مجھے بڑی مشکل سے یہ یقین دلانا پڑتا کہ نہیں بھائی میں اصل میں قصاب نہیں۔"

پھر انہی دنوں ایک خاکے میں خاکروب کا کردار آیا تو تمام آرٹسٹوں نے اسے کرنے سے منع کردیا کہ یہ عجیب سا کردار کون کرے گا لیکن "میں نے کہا کہ یہ کردار میں کرتا ہوں۔ میں نے یہ کردار ادا کیا جسے عوام میں تو خوب پذیرائی ملی۔"

ماجد جہانگیر کی اہلیہ
ماجد جہانگیر کی اہلیہ

ان کرداروں کی کامیابی کی اصل وجہ سے پردہ اٹھاتے ہوئے ماجد جہانگیر نے وی او اے کو بتایا "ان کرداروں میں نے جوکہیں لاہوری تو کہیں ہزارے والوں اور پنڈی والوں کی ’ٹون‘ لگائی جسے سن کر عوام کو اپنائیت کا احساس ہوا اور کردار ہٹ ہوگئے۔ میرے اداکردہ ہر کردار پر یہ شک کیا گیا کہ میں شاہد اصل میں بھی وہی ہوں جیسا کردار ہے۔ پنجاب کے علاقوں کی ٹون اس لئے میں نے اچھی طرح سے نبھائی کہ والد صاحب پنجاب کے تھے جبکہ حیدرآباد دکن کی ٹون جیسے ’ارے میاں کیا باتاں کرتے تم ۔۔۔‘والدہ کی طرف سے سمجھئے ورثے میں ملی۔ یہ تمام چیزیں میں نے مشاہدے سے حاصل کیں۔"

ماجد جہانگیر کا کہنا ہے "میری نظر میں ففٹی ففٹی ایک ایسا پروگرام تھا جس کی بدولت ہم آج تک لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ اس دور میں بھی اور اب بھی ۔۔ میں’ ففٹی ففٹی‘ کے مرکزی اداکاروں میں سے تھا جبکہ بشریٰ انصاری اس زمانے میں نئی نئی آئی تھیں اور اسماعیل تارا، لطیف کپاڈیہ، زیبا شہناز وغیرہ بھی کاسٹ میں نمایاں تھے ۔‘

’ففٹی ففٹی ‘ کی ابتدا کس طرح ہوئی اس سوال پر ماجد جہانگیر نے بتایا "اس کے پروڈیوسر شعیب منصور تھے جو خاکوں کا ایک پروگرام ترتیب دے رہے تھے ۔ اس وقت تک اس کا نام بھی نہیں سوچا گیا تھا۔ اس وقت کے آرٹسٹ خالد نظامی، زاہد حسین اور میں ان کے رابطے میں تھے۔ انہوں نے ہمیں بلاکر ایک دن اس پروگرام کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کا کونسپٹ یہ ہے کہ اس میں آدھے مزاحیہ خاکے ہوں گے اور آدھے مزاحیہ گانے ہوں گے۔ اسی وقت ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اس کا نام ہی ’ففٹی ففٹی‘ رکھا جائے۔ ففٹی خاکے ، ففٹی سانگس۔۔ سب لوگوں کو یہ نام اچھا لگا اور یوں ’ففٹی ففٹی‘ کی بنیاد پڑی۔"

بقول ماجد جہانگیر "پروگرام آن ائیرجانے تک ہم میں سے کسی کو بھی یہ امید نہیں تھی کہ پروگرام اس قدر ہٹ ہوجائے گا ۔ اسے راتوں رات عوام کی بھرپور پذیرائی ملی۔ عوامی پذیرائی کا سبب وہ مکالمہ بنا جسے میں اور اسماعیل تارا اداکرتے تھے ۔ وہ مکالمہ بھی کیا ایک مخصوص لب و لہجہ تھا 'نہی ڑے۔۔۔ہاں ڑے۔۔ وا ڑے۔۔۔۔‘یہ اس قدر مشہور ہوا کہ پورے پروگرام کو ہی سپر ہٹ بناگیا۔"

انھوں نے مزید بتایا کہ 1985 میں یہ پروگرام بند ہو گیا جس کے بعد وہ امریکہ چلے گئے اور وہاں 23 سال گزارے۔

"امریکی گرین کارڈ حاصل کیا مگر شہریت نہیں لی۔ میں فنکار تھا اور پاکستان کی یاد مسلسل آتی رہتی تھی، وہاں جاکر میں خود کو زیرو سمجھتا تھا کیوں کہ فنکار اپنے پرستاروں کے درمیان ہی فنکار رہتا ہے دور چلا جائے تو اس کا فن دیکھنے والا پھر کوئی نہیں رہتا۔ اگرچہ میں نے وہاں بھی مختلف پروگرامز کئے اور چھ سات مرتبہ پاکستان آتا جاتا بھی رہا لیکن جو مزا یہاں تھا وہ مجھے اتنے سالوں میں ملا ہی نہیں۔"

ماجد جہانگیر نے اپنی داستان حیات جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا "پاکستان آکر میں نے دوبارہ کام کا آغاز کیا عامر لیاقت کے ساتھ ’جیو‘ کے لئے پروگرامز کئے اس کے علاوہ لاہور سے ’خبرناک‘ کرتا رہا۔ مگر دو تین سال پہلے اچانک مجھ پر فالج کا حملہ ہوگیا جس نے بہت نقصان پہنچایا۔ یہاں تک کہ کام سے بھی دوری ہوتی چلی گئی، مالی حالات بھی ٹھیک نہیں رہے تھے۔ میں مایوس ہونے لگا تھا یہاں تک کہ مالی امداد کے لئے حکومت کے دروازے کھٹکھٹانا پڑے۔ ایسے میں پنجاب حکومت نے میرا بہت، بہت ساتھ دیا۔"

وہ ایک لمحے کے لئے رکے دوبارہ سلسلہ جوڑتے ہوئے بولے "پاکستان کے موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میری سب سے زیادہ مدد کی۔ انہوں نے ناصرف علاج معالجے کا بندوبست کیا بلکہ 25لاکھ روپے بھی دیئے ۔ پھر حمزہ شہباز نے بھی میرا بہت ساتھ دیا ۔ سندھ کی وزیر شرمیلا فاروقی نے بھی مجھے مالی مدد فراہم کی۔ یہاں تک کہ علاج کے بعد جو رقم بچی اس سے میں نے یہ ہوٹل کھول لیا۔"

وی او اے کے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ "اداکاری کے شعبے سے ہوٹلنگ کی لائن میں آنے کا سبب یہ تھا کہ میں کسمپرسی کی زندگی جینا نہیں چاہتا تھا ورنہ پاکستان میں فنکاروں کا آخری عمر میں کسمپرسی کی زندگی گزارنا ایک عام سی بات ہے۔ اگرچہ یہ فیلڈ میرے لئے نئی ہے اور مجھے اس کے بارے میں کچھ خاص پتہ بھی نہیں لیکن گھر کا خرچ اور دال دلیہ چلتا رہے اس لئے ’ففٹی ففٹی دال چاول ‘ کے نام سے یہ ہوٹل کھول لیا ہے۔"

ماجد جہانگیر کی اہلیہ ان کی ہر طرح سے مدد کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ ہوٹل ساتھ آنے اور جانے میں بھی ان کی مدد شامل رہتی ہے۔ وی او اے نے ان سے پوچھا کہ ماجد بحیثیت انسان بہت اچھے ہیں یا شوہر؟ تو ان کا ہنستے ہوئے کہنا تھا ’تینوں حیثیت میں وہ بہت اچھے ہیں۔ انسان کی حیثیت سے سب کے دوست، شوہر کے روپ میں قابل احترام اور سب سے بڑی پہچان ان کا فنکار ہونا۔ ہماری شادی کو 14سال ہوگئے، ان کے ساتھ بہت خوش ہوں۔"

ماجد جہانگیر کی اولاد کوئی نہیں لیکن وہ اپنے جونیئر فنکاروں کو ہی اپنی اولاد سمجھتے ہیں۔ وہ فن کو آگے لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا "طبیعت سنبھلتے ہی ایک نئی سیریل پر کام شروع کروں گا جس کا نام ہے ’ہوٹل داماد‘ ۔ اس میں، میں ہی ’داماد‘ کا رول ادا کروں گا۔"

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا "اب دل چاہتا ہے کہ صدارتی ایوارڈ ملے ۔ زندگی کے 50سال فن کو دے دیئے ، اگر اب بھی ایوارڈ نہ ملا تو بہت مایوسی ہوگی۔ بس یہی ایوارڈ تو ہے جو فنکار کو زندہ اور ترو تازہ رکھتا ہے۔"

ماضی کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر ماجد جہانگیر کا کہنا تھا "میں شروع شروع میں بحیثیت سنگر فن کی دنیا میں آیا تھا۔ آپ کو سن کر تعجب ہوگا کہ ان دنوں میں نے بے شمار پروگرام سندھی زبان میں کئے حالانکہ نہ تو میری مادری زبان سندھی ہے اور نہ ہی مجھے سندھی آتی تھی۔ بس کام سے لگن کے باعث کچھ مہینے سندھی پڑھی، بولنا سیکھی اور اس حد تک کامیابی حاصل کی کہ لوگوں کو گماں ہوتا تھا کہ میں سندھی ہی ہوں حالانکہ میرے والد کا تعلق صوبہ پنجاب اور والدہ کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھا۔"

ماجد جہانگیر نے بتایا کہ "میرا پہلا اردو پروگرام معین اختر کے ساتھ ’سات رنگ ‘ تھا جو پی ٹی وی پر نشر ہوا اور بہت مقبول ہوا۔"

ہوٹل کا بیرونی منظر
ہوٹل کا بیرونی منظر

"پھر کامیڈی میں سکہ چلنے لگا اور آہستہ آہستہ یوں ہوا کہ میں سنگنگ چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے کامیڈی سے جڑ گیا۔ اسی دور میں ففٹی ففٹی مجھے ملا جس کے بعد سے اب تک میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہوں۔"

زمانہ بدلنے کے ساتھ ساتھ ڈرامے کے بدلتے معیار پر اپنے تاثرات میں انہوں نے کہا "اس دور کے ڈراموں اور خاص کر کامیڈی کے معیار میں حد درجہ تبدیلی آگئی ہے بلکہ یوں کہیے کہ کامیڈی کا معیار گر گیا ہے ۔ آج کے دور کا کامیڈی ڈرامہ’ فیملی ڈرامہ ‘نہیں رہا، تمام گھر والے اسے ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھ ہی نہیں سکتے۔ ان جیسے ڈائیلاگ سن کر گردن نیچے ہو جاتی ہے۔"

بقول ماجد جہانگیر "آج کے ڈرامے صرف چینل اسکرین بھرنے کے کام آتے ہیں، 24 گھنٹے چلنے والے چینلز اتنے سارے ہیں کہ ان کا پیٹ بھرنا ہی مشکل لگتا ہے اس لئے جو مرضی آتا ہے لوگ دکھاتے ہیں، بے شمار چھوٹے فنکاروں کو تو کام کا معاوضہ بھی نہیں ملتا البتہ اچھے فنکاروں کو نجی چینلز اچھی ادائیگی کرتے ہیں۔ پیسے پی ٹی وی کے دور میں بھی کم ملتے تھے خو د مجھے ایک ہفتے کام کرنے کے صرف 600 روپے ملا کرتے تھے اور یہ بھی باقی فنکاروں سے زیادہ معاوضہ تھا ۔۔ایک ہی چینل تھا اور اس تک رسائی بھی انتہائی مشکل ہوا کرتی تھی۔ لوگ انتظار انتظار میں ہی مہینوں اور سالوں گنوادیا کرتے تھے۔خود ہم نے ٹی وی اسکرین تک پہنچنے کے لئے بہت پاپڑ بیلے۔ آغاز ریڈیو سے کیا، پھر اسٹیج کی دنیا دیکھی پھر ٹی وی پر گئے۔"

وہ بتاتے ہیں کہ "ریڈیو سے لب و لہجہ، الفاظ کی ادائیگی کا طریقہ اور درست تلفظ سیکھنے کا انمول موقع ملتا ہے جو آج کے براہ راست ٹی وی پر آنے والے فنکاروں کو حاصل نہیں۔ ان کا تلفظ تک درست نہیں ہوتا۔ انہیں مائیک تک کا پتہ نہیں اس لئے لفظوں کی ادائیگی غلط ہوتی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ جو آسان الفاظ ہیں ان تک کے درست تلفظ پر کوئی توجہ نہیں دیتا اداکاری کے فن کو سنوارنا تو بہت دور کی بات ہے۔"

XS
SM
MD
LG