رسائی کے لنکس

logo-print

نئی ڈرامہ سیریل 'سمی' کی خالق نورالہدی شاہ سے ملاقات


بہن, بھائی کی ملکیت ہوتی ہی نہیں ۔ نہ شرعی طور پر نا قانونی طور پر ۔ اگر اس پیغام سے کسی بھائی کے ہاتھ بہن کو جلانے سے رک گئے تو میں سمجھوں گی کہ مجھے اپنی تحریروں کا صلہ مل گیا۔

نور الہدیٰ شاہ پاکستان کی ایسی ڈرامہ رائٹر ہیں جنہوں نے معاشرتی مسائل کو ہر دور میں کھل کر اجاگر کیا اور سخت سے سخت سنسر شپ کے دوران بھی انہوں نے بہت ہی شاندار اور روایت سے ہٹ کر ٹی وی ڈرامے لکھے جیسے ’’ جنگل‘‘، ’تپش‘‘، ’’ ماروی ‘‘ اور ’’ عجائب گھر‘‘ وغیرہ۔ یہ اپنے دور کے شاہکارڈرامہ سیریلز ہیں۔

نور الہدی ٰ شاہ کافی عرصے سے ڈرامے سے دور تھیں اب ایک طویل عرصے بعد ان کی واپسی ہورہی ہے ، ہم ٹی وی کے رواں ماہ سے شروع ہونے والے ڈرامہ سیریل ’ سمی ‘‘ سے۔

وائس آف امریکہ سے ایک ملاقات میں انہوں نے اپنی واپسی ، نئے ڈرامے ، سوسائٹی اور اسے درپیش بہت سے مسائل اور حساس موضوعات سے متعلق اپنے خیالات شیئر کئے ۔ ان خیالات کو آپ بھی ذیل میں ملاحظہ کیجئے :

نور الہدیٰ شاہ سے جو انڈسٹری میں ’نور آپا‘ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہیں ، وی او اے کے ایک سوال پر بولیں ’’ میری بطور ڈرامہ رائٹر واپسی کا کریڈٹ مومنہ درید کو جاتا ہے حالانکہ میں نے بہت بھاگنےکی کوشش کی، بہت انکار کیا کہ مجھ سے اب ڈرامہ نہیں لکھا جاتا ، یہ بہت ہی تھکا دینے والا کام ہے لیکن مومنہ نے مجھ نہیں چھوڑا۔ میں اس کی شکرگزار بھی ہوں کیوں کہ اب ایک ڈرامہ لکھ لیا ہے تو پیچھے ایک قطار لگ گئی ہے، میرے اندر کا ڈرامہ رائٹر پھر سے جاگ گیا ہے۔‘‘

’’مجھے خوشی ہے کہ اب جو ڈرامہ رائٹر جاگا ہے تو یہ رائٹر ہے جس نے ’جنگل ‘ لکھا تھا۔ یہ ڈرامہ میں نے اسی قلم سے لکھا ہے جس سے ’جنگل ‘لکھا تھا۔

’ایک رائٹر کے لئے اس کی تحریریں ایک اولاد کی طرح ہوتی ہیں جنہیں وہ سینے سے لگا کر رکھتا ہے ، کیا آپ بھی اپنی تحریروں کو ایسا ہی سمجھتی ہیں؟ ‘

وی او اے کے اس سوال پر ’نور آپا‘ کا کہنا تھا ’’میں تحریروں کو اولاد کی طرح نہیں چاہتی ۔ میری نظر میں تحریر آپ کا اظہار رائے ہے ۔ ایک تحریر گزر جائے تو آپ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ میں’ جنگل‘ کا حوالہ بھی اس لئے دے رہی ہوں کہ لوگوں کو سمجھ میں آئے کہ میں کہنا کیا چاہتی ہوں۔ اگر میں تحریروں کو سینے لگا کر رکھوں تو پھر ہم آگے کچھ نہیں لکھ سکتے ۔۔۔پھر تو یہی ہوگا کہ’’ بچے دو ہی اچھے۔۔‘‘

انہوں نے پی ٹی وی ڈراموں کا سنہری دور یاد کرتے ہوئے بتایا ’’پی ٹی وی کے دور میں بہت سخت سنسر شپ تھا اور میں نے اسی سنسر شپ کے دوران لکھا۔۔ جو جی چاہا وہ لکھا۔ اس سنسر شپ میں شرابی نہیں دکھا سکتے تھے ، میں نے شرابی دکھایا، اس میں ریپ نہیں دکھا سکتے تھے میں نے دکھایا۔ یہ ضیا الحق کا زمانہ تھا۔ اس دور میں آپ سیاست پر بھی نہیں لکھ سکتے تھے میں نے اسٹوڈنٹ پولیٹکس پر پورا ڈرامہ لکھا۔۔تپش کے نام سے۔ اصل میں رکاوٹ اور اچھا لکھواتی ہے ْ آزادی از خود اپنا ناجائز استعمال کرواتی ہے کیوں کہ بہتے پانی کو آپ روک نہیں سکتے وہ اپنی راہ خود بنالیتا ہے ۔ کمال یہ ہے کہ آپ اس آزادی کو سمیٹ کر کھڑے ہوں۔ ‘‘

بطور رائٹر کیا آج کے معاشرے اور کل کی سوسائٹی میں کوئی تبدیلی محسوس کرتی ہیں؟ اس سوال پر نور الہدیٰ شاہ کا کہنا تھا ’’تبدیلی آئی ضرور ہے لیکن ابھی بھی بہت پابندیاں ہیں، ابھی بھی بہت مسائل ہیں۔ ایسا ہو بھی نہیں سکتا۔آپ ایک دروازہ کھولیں گے تو دوسرا بند ہو جائے گا۔ تاہم اب اتنا ضرور ہوا ہے کہ اب ڈرامے ایک دو قسطوں کے بعد پہلے کی طرح بند نہیں کرنا پڑتے ‘‘۔

‘سمی ‘کے حوالے سے وہ بتاتی ہیں ’’میرے لئے یہ پروجیکٹ بہت مشکل تھا کیوں کہ جب ہم جوانی میں کام کرتے ہیں تو ڈر نہیں لگتا ہے لیکن جب آپ کا ایک نام، ایک امیج بن جاتا ہے تو ڈر لگنے لگتا ہے ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص بڑی عمر کو پہنچ جائے تو سیڑھیاں بہت سنبھل، سنبھل کر اترتا ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا ’’سمی‘ کی کہانی پر کافی دنوں سے کام ہو رہا تھا۔ ایک جونیئر رائٹر فاطمہ اس پر کام کر رہی تھیں لیکن ااپنے کچھ مسائل کی وجہ سے وہ لندن چلی گئیں۔ اس کے بعد اسے لکھنے کے لئے مومنہ نے میرے نام کا قرعہ نکالا۔ میں لکھنے والوں کی اس نسل سے ہوں جو اپنے ناز اٹھوایا کرتے تھے تو مومنہ نے بھی ناز اٹھا اٹھا کر مجھ سے یہ ڈرامہ لکھوایا ہے۔‘‘

’سمی ‘میں پیش کئے گئے مسائل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا ’’عورت کے بے تحاشا مسائل ہیں ۔ اسے بچے پیدا کرنے کی مشین سمجھ لیا گیا ہے ۔ وہ اکیلی اس چکی میں نہیں پس رہی وہ جو بیٹے کی امیدپر بیٹیاں پیدا کر رہی ہے وہ بچیاں بھی پستی چلی جاتی ہیں اور ایسے میں آپ تھکی ہوئی ایسی نسل ،ایسی مائیں دے رہے ہوتے ہیں جو آپ کو ایک کامیاب سوسائٹی دینے سے پہلے ہی معذور ہوچکی ہوتی ہیں۔‘‘

’’سمی کا رول دراصل ونی کا روپ ہے۔ میں نے’ سمی‘ کو بڑے شوق سے لکھا ہے ْ جیسا کہ ابھی میں نے کہا کہ ’جنگل ‘والے رائٹر نے ہی ’سمی ‘لکھا ہے جس نے اپنی تحریر سے پورے معاشرے کو ہلا دیا تھا مگر مجھے اس کی پرواہ نہیں تھی۔ آج اتنے برس بعد جب میں نے’ سمی‘ لکھا تو دیکھا کہ سوسائٹی سن 1982اور 1983میں لکھے گئے ’ جنگل‘ والے وقت سے بھی پیچھے جاچکی ہے۔ جس شے نے مجھ سے ’’سمی‘‘ لکھوایا ہے وہ، یہ درد ناک معاشرتی مناظر ہیں جنہیں آپ نے خود بھی اپنی آنکھ سے دیکھا ہو گا ۔ بھائی بہنوں کو جلا رہے ہیں اور مائیں ان کے ساتھ شامل ہیں جبکہ لڑکیوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا چاہتی ہیں۔ بس اسی آگ نے ۔۔اور اسی چیز نے مجھ سے ’’سمی‘‘ لکھوایا ہے ۔ ‘‘

’’اپنے قلم ، اپنی تحریر ، اپنےڈرامے اور اپنے دل سے جو پیغام میں نے اس سیریل میں دیا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کی شہری اور دیہی سوسائٹی کے لئے اور اس میں بس رہے بھائیو ں کے لئے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بہنیں ہماری ملکیت ہیں ۔۔ بہن ملکیت ہوتی ہی نہیں ۔ نہ شرعی طور پر نا قانونی طور پر ۔ اگر اس پیغام سے کسی بھائی کے ہاتھ بہن کو جلانے سے رک گئے تو میں سمجھوں گی کہ مجھے اپنی تحریروں کا صلہ مل گیا۔‘‘

ایم ڈی پروڈکشنز کی روح رواں مومنہ دُرید نے بتایا ’’سمّی ‘‘درحقیقت ’ہم‘ٹی وی سے 29 جنوری سے شروع ہونے والا 20 قسطوں پر مشتمل ایک نئی ڈرامہ سیریل ہے جس میں عورت اور معاشرے کے مسائل اُجاگر کیا گیا ہے۔ یہ ’ایم ڈی پروڈکشنزُ اور‘ سینٹر فار کمیونیکیشنز پروگرامز‘ کے اشتراک سے تیارکیا گیا ہے۔

سمی کے ڈائریکٹر سیف ِحسن ہیں جبکہ سیریل کے نمایاں اداکاروں میں عدنان صدیقی‘ عرفان کھوسٹ‘ نور الحسن ‘ سیمی راحیل‘ ثمن انصاری‘ مدیحہ رضوی‘ نادیہ افغان اور ریحان شیخ شامل ہیں جبکہ اداکارہ ماورہ حسین سمّی کے ذریعے طویل عرصے کے بعد چھوٹی اسکرین پر جلوہ گر ہو رہی ہیں۔

’سمّی‘ کئی معاشرتی مسائل کا پردہ چاک کرے گی جس میں ونی جیسی قبیح رسم کے ساتھ ساتھ زچہ و بچہ کی صحت اور خواتین کے وراثتی حق جیسے موضوعات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔

’سمّی‘ خواتین کے ایسے کرداروں کی کہانی ہے جو روایتی اور معاشرتی حدود کو توڑ کر اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہیں۔

ڈرامے کے حوالے سے کراچی میں ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں ’ہم‘ نیٹ ورک کی سلطانہ صدیقی ‘پروڈیوسر مومنہ دُرید ‘ ڈاکٹر سیف ِ حسن‘ سینٹر فار کمیونی کشن پروگرامز پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عاطف اکرام بٹ ‘ سی سی پی پی کی سابقہ میڈیا ایڈوائزر انجم ندا رحمٰن‘ جانز ہاپکنز سینٹر فار کمیونی کشن پروگرامز پاکستان کی سینئر پروگرام آفیسر لی ین وولف ‘احتشام اکرم نے بھی شرکت کی ۔

ڈرامے میں مرکزی کردار ادا کرنے والی ماورہ حسین ‘ ثمن انصاری اور مدیحہ رضوی نے ڈرامے سے متعلق اپنے خیالات اور پیچیدہ کرداروں کی ادائیگی کے دوران ہونے والے تجربات سے حاضرین کو آگاہ کیا۔

XS
SM
MD
LG