رسائی کے لنکس

logo-print

عندلیب شادانی


عندلیب شادانی کا انتقال 29 جولائی سنہ 1969 کو ڈھاکہ ( اس وقت مشرقی پاکستان ) میں ہوا تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری سے ایک نئی کائنات بسائی تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ ایسی جگہ پر انہوں نے اردو کا دبستان قائم کیا تھا جہاں اردو لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد مختصر تھی ۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی کاوشوں سے ڈھاکہ میں ادبی دلچسپیوں کا سامان پیدا کر دیا تھا اور ان کے سبب وہاں کی ادبی دنیا کافی متحرک تھی۔ لیکن ان کے انتقال کے دو سال بعد ہی بنگلہ دیش بن گیا اور وہاں سے اردو پڑھنے لکھنے والے ہجرت کر گئے ۔

عندلیب شادانی کا اصل نام سید وجاہت حسین تھا ۔ان کی پیدائش اتر پردیش کے سرائے سنبھل میں 1895 میں ہوئی تھی ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد مدرسہ عالیہ رام پور میں داخلہ لیا تھا ۔ جہاں سے منشی عالم اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کئے ۔ پھر پرائیویٹ طور پر سنہ 1921 میں بی ۔ اے پاس کیا۔ بعد میں وہ لاہور چلے گئے اور وہاں ایک کالج سے وابستہ ہو گئے ۔ سنہ 1928 میں فارسی کے لکچرر کے طور پر ان کا تقرر ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہوا اور سنہ 1931 میں وظیفے کے تحت لندن جا کر پی ۔ ایچ ۔ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ بعد میں وہ پھر ڈھاکہ یونیورسٹی میں اردو ، فارسی شعبے کے صدر بنے اور وہیں سے 1965 میں سبکدوش ہوئے ۔

عندلیب شادانی کی چند غزلیں بہت مشہور ہیں ۔ جنہیں تقریباً ہر معروف گلو کار نے گایا ہے ۔

ان کا شعر ی مجموعہ پہلی بار سنہ 1951 میں لاہور سے ’ نشاط رفتہ ‘ کے نام سے شائع ہوا تھا ۔ یہ ان کی غزلوں کا مجموعہ ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے تحقیقی و تنقیدی مضامین بھی لکھے تھے ۔ اس کا مجموعہ” اردو غزل گوئی اور دور حاضر “ کے عنوان سے شائع ہوا تھا ۔ جدید فارسی پر انہیں گہرا درک حاصل تھا اور انہوں نے کئی کتابوں کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا تھا ۔ وہ ڈھاکہ کے روزنامہ ” مشرقی پاکستان “ کی ادارت سے بھی وابستہ تھے ۔

عندلیب شادانی کی معروف غزلوں کے کچھ منتخب اشعار

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا پہلے ہم گھبرائے تو

شفق دھنک مہتاب گھٹائیںتارے نغمے بجلی پھول

اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے دامن ہاتھ میں آئے تو

چاہت کے بدلے میں ہم تو بےچ د یں اپنی مرضی تک

کوئی ملے تو دل کا گاہک کوئی ہمیں اپنائے تو

سنی سنائی بات نہیں یہ اپنے اوپر بیتی ہے

پھول نکلتے ہیں شعلوں سے چاہت آگ لگائے تو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کوئی ادا شناس محبت ہمیں بتائے

جو ہم کو بھول جائے وہ کیوں ہم کو یاد آئے

وہ جان آرزو کہ ہے سرمایہ حیات

کیوں اس کی یاد غم کی گھٹا بن کے دل پہ چھائے

عندلیب شادانی کی غزل رومانی ، ماحول کو اپنے جلو میں لئے ہوئے ہے اور سرتاپا اس میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ اسی لئے جب معروف گلوکاروں نے اسے اپنی صدا دی ہے توایک خاص جذبہ طاری ہو جاتا ہے اور یہی جذبہ سامع کے دل پردستک دیتا ہے ۔ اس لئے عندلیب شادانی کا سرمایہ غزل مختصر سہی لیکن یہ دل پر ایک خاص کیفیت طاری کر دیتا ہے ۔

XS
SM
MD
LG