رسائی کے لنکس

logo-print

زیادہ غصہ کرنے والوں کا 'جذباتی دماغ' چھوٹا ہوتا ہے: رپورٹ


زیادہ غصہ کرنے والے افراد کےدماغ کے فرنٹو لیمبک ڈھانچے میں گرے میٹر سرمئی مواد کا حجم نمایاں طور پر کم ہوتا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کا 'جذباتی دماغ' چھوٹا ہوتا ہے۔

زیادہ غصہ کرنا یا غصے میں آپے سے باہر ہو جانا ایک برا رویہ سمجھا جاتا ہے لیکن، ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بار بار غصے میں آجانے والے لوگوں کی ناراضگی کی حقیقت کچھ اور ہے۔

شکاگو یونیورسٹی کے محققین کی طرف سے منعقدہ تحقیق 'جرنل بائیو لوجیکل سائکائٹری' کی جنوری کی اشاعت کا حصہ ہے۔

اس تحقیق میں عصبی سائنس دان کو پتا چلا ہے کہ جن لوگوں پر بار بار غصے کا حملہ ہوتا ہے، ان کے دماغ کا وہ حصہ چھوٹا ہوتا ہے، جو جذبات کے ساتھ منسلک ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق ہمارے دماغ میں جذبات کو کنٹرول کرنے والے علاقے دراصل ہمارے جارحانہ رویے کی حیاتیات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

محققین نے کہا کہ زیادہ غصہ کرنے والے افراد کے دماغ کے فرنٹو لیمبک ڈھانچے میں گرے میٹر سر مئی مواد کا حجم نمایاں طور پر کم ہوتا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کا 'جذباتی دماغ' چھوٹا ہوتا ہے۔

یونیورسٹی آف شکاگو میں شعبہ نفسیات اور عصبی سائنس سے وابستہ محقق ڈاکٹر کاکورو نے کہا ہمیں غصے اور سرمئی مواد کے حجم کے درمیان الٹا ارتباط ملا ہے۔ یعنی شرکاء کے دماغ کے جذبات سے منسلک دماغ کے حصوں میں سرمئی مواد کا حجم جتنا کم تھا وہ اتنا ہی زیادہ غصہ کرنے والے تھے۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر کاکورو اور ان کے ساتھی محققین نے کہا کہ بار بار اشتعال میں آ جانا، غیظ و غضب اور پرتشدد غصے کو صرف ایک برا رویہ نہیں کہا جا سکتا ہے جس کی ہمارے مطالعے نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

تحقیق میں بار بار غصے کرنے کو' انٹرمیٹنٹ ایکسپلوزو ڈس آرڈر ' کے طور پر بتایا گیا ہے، جو دماغ کی ایک خرابی ہے، اسے شخصیت کی خرابی نہیں کہا جا سکتا ہے۔

اپنے مطالعے کے لیے محققین نے 168افراد کے دماغ میں بھورے حصے کے حجم کا تجزیہ کیا ہے۔ جن میں سے 57 شرکاء دماغ کی اس خرابی کے ساتھ تھے جبکہ 53 صحت مند شرکاء اور 58 نفسیاتی عارضے کے ساتھ تھے۔

محققین جب ایم آر آئی اسکین سے شرکاء کے دماغ پر تحقیقات کر رہے تھے تو، انھیں پتا چلا کہ زیادہ اشتعال میں آجانے والے لوگوں کے دماغ کے علاقوں 'اوربیٹو فرنٹو کورٹیکس' ، 'وینٹرل میڈیل پری فرنٹل کارٹیکس' اور 'انٹیرئیر سنگولیٹ کارٹیکس' میں بھورے مواد کی مقدار صحت مند شرکاء کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھی۔

گرے میٹر مرکزی اعصابی نظام کا حصہ ہے، جو خلیاتی اجسام اور عصبی خلیوں پر مشتمل ہے، یہ بھورا مواد پٹھوں کو کنٹرول، سماعت، بصارت، جذبات، بات چیت، خود پر قابو رکھنے اور فیصلہ سازی کرنے والے دماغ کے حصوں میں شامل ہے۔

جبکہ دماغ میں بھورے مواد کی اعلیٰ کثافت کو عام طور پر فہم ادراک، ذہانت اور اچھی یاداشت کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سکائٹری اینڈ بی ہیور سائنس سے وابستہ ڈاکٹر کیمرون کارٹر نے کہا کہ تمام شرکاء کے دماغ کے ڈھانچے میں گرے میٹر کا کم حجم زیادہ جارحیت کے ساتھ منسلک پایا گیا ہے۔

انھوں نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ دماغ میں جذبات کو سنبھالنے والے بھورے حصے کی نشوونما میں خرابی کے نتیجے میں ایک شخص میں غصے اور جارحیت کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے۔

محققین نے کہا کہ زیادہ غصہ کرنا لوگوں کی زندگیوں میں شدید مشکلات پیدا کرتا ہے جس سے صحت کے خطرات کے علاوہ ازدواجی رشتوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

XS
SM
MD
LG