رسائی کے لنکس

امریکہ میں بھی کتابوں کی دکانیں بند ہوتی ہیں


واشنگٹن کے قریب اننڈیل شہر میں کرٹ کروگر اینٹیک شاپ

کتابوں کی دکانیں صرف پاکستان ہی نہیں، امریکہ میں بھی بند ہوجاتی ہیں۔ ریاست ورجینیا کے قصبے اینن ڈیل میں پرانی اور نایاب کتابوں کی مشہور دکان بند ہونے سے مطالعے کے شوقین افراد اداس ہیں۔

کرٹ کروگر چالیس سال سے یہاں کتابیں فروخت کررہے تھے۔ ان کے پاس دکان اور وسیع گودام تھا جس میں انھوں نے ہزاروں کتابیں بھری ہوئی تھیں۔ صرف کتابیں ہی نہیں، رسالے، پینٹنگز، آٹوگراف اور دوسری نایاب اشیا بھی جمع کی ہوئی تھیں۔
لیکن اب وہ بیشتر سامان ڈبوں میں بھر چکے ہیں۔ کچھ ڈبے گھر لے جاچکے ہیں اور کچھ چند دن میں لے جائیں گے۔ انھیں اس ماہ یہ دکان اور گودام خالی کرنا ہے۔

کروگر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ جگہ کرائے کی تھی۔ انھیں ہر ماہ سات ہزار ڈالر کرایہ دینا پڑتا تھا۔ پہلے وہ کافی پیسے کما لیتے تھے۔ لیکن اب ہزار دو ہزار ڈالر سے زیادہ نہیں کما پاتے۔ وہ اپنی جیب سے ہر ماہ کرایہ نہیں دے سکتے۔

​​کروگر نے زندگی بھر پرانی کتابیں خریدی اور بیچی ہیں۔ انوکھی اور نایاب کتابیں اکثر ان کے ہاتھ لگتی تھیں۔ کسی پر مصنف کے دستخط ہوتے تھے، کسی پر مشہور شخصیت کے۔ وہ ایسی کتابیں شوقین افراد کو اچھے داموں فروخت کرتے تھے۔

اس دکان میں اب بھی عشروں پرانی کتابیں پڑی ہیں۔ کئی طرح کے انسائیکلوپیڈیا ہیں، انجیل اور قرآن کے قدیم نسخے ہیں، مقبول ناول اور بیسٹ امریکن شارٹ اسٹوریز جیسے مجلے ہیں، تصویری کتابیں اور کامکس ہیں، بچوں کی کہانیوں کی کتابیں ہیں۔ کوئی انجیل سو سال پرانی ہے، کوئی مجلہ 1930 کے عشرے کا ہے،کوئی کتاب 1950 کی دہائی کی ہے۔

کرٹ کروگر
کرٹ کروگر

​کروگر کے گھر میں جتنی جگہ ہے اور ان کے پاس جتنے ڈبے ہیں، انھیں بھرنے کے بعد بھی بہت کچھ باقی رہ جائے گا۔ چنانچہ وہ اپنا مال اونے پونے فروخت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں تیس سے چالیس ہزار ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ لیکن اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں۔

امریکہ میں مطالعے کا شوق کم نہیں ہو رہا لیکن چھپی ہوئی کتابوں کی فروخت گھٹ رہی ہے۔ 2008 میں امریکہ میں 78 کروڑ کتابیں فروخت ہوئی تھیں جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 68 کروڑ رہی۔ اس کے مقابلے پر ای بکس خریدنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

کروگر کی عمر 80 سال ہو چکی ہے۔ کتابوں سے ان کی محبت کم نہیں ہوئی لیکن کاروبار میں مندے نے انھیں تھکا دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اب گھر بیٹھ کر انٹرنیٹ پر پرانی کتابیں بیچوں گا۔ جو پیسہ آئے گا، وہ خالص منافع ہو گا کیونکہ دکان کا کرایہ نہیں دینا پڑے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG