رسائی کے لنکس

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کے مطابق 62 بشارت احمد کو مذہبی منافرت کی بنا پر قتل کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق بشارت احمد اپنے پیٹرول پمپ سے موٹر سائیکل پر گھر جا رہے تھے کہ نا معلوم افراد نے اُن پر فائرنگ کر دی۔

جماعت احمدیہ کے ترجمان کے مطابق گزشتہ 35 دنوں میں بشارت احمد سمیت احمدی برداری سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو قتل کیا جا چکا ہے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ڈاکٹر مہدی حسن کہتے ہیں کہ پاکستان میں عدم برداشت کے رویے بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ اُن کے بقول مذہبی اقلیتوں کے خلاف ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال مارچ کے اواخر میں جماعت احمدیہ پاکستان نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی تھی، جس میں کہا کہ 2016ء میں اُن کی جماعت کے چھ افراد کو قتل کیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ جماعت احمدیہ کے خلاف پاکستان کے مقامی اخبارات میں منافرت پر مبنی 1700 سے زائد خبریں اور 313 مضامین شائع کیے گئے۔

حکومت میں شامل عہدیداروں کا یہ موقف رہا ہے کہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک میں آباد تمام عقائد و مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں انتہا پسند عناصر کسی خاص مذہب یا عقائد رکھنے والوں کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خطرہ ہیں، جن کے خاتمے کے لیے حکومت کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG