رسائی کے لنکس

logo-print

انڈونیشیا میں قید پاکستانی کی رہائی کا ایک اور مطالبہ


تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ بلال نے کہا ہے کہ وہ ذوالفقار علی کی زندگی تو نہیں بچا سکتے لیکن یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ انڈونیشیا میں قید پاکستانی شہری آزاد انسان کے طور پر اس دنیا سے جا سکیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم 'جسٹس پروجیکٹ پاکستان' نے انڈونیشیا میں سزائے موت پانے والے ایک پاکستانی قیدی کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

'جسٹس پروجیکٹ پاکستان' نے اپنے ایک بیان کہا کہ جکارتہ کے اسپتال میں زیرِ علاج 54 سالہ پاکستانی شہری ذوالفقار علی کی صحت تیزی سے بگڑ رہی ہے اور اُن کی کسی بھی "موت واقع ہو سکتی ہے۔"

تنظیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ بلال نے کہا ہے کہ وہ ذوالفقار علی کی زندگی تو نہیں بچا سکتے لیکن یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ انڈونیشیا میں قید پاکستانی شہری آزاد انسان کے طور پر اس دنیا سے جا سکیں۔

ذوالفقار علی 2004ء سے گرفتار ہیں۔ انہیں منشیات رکھنے کے جرم میں انڈونیشیا کی ایک عدالت نے تقریباً 12 سال قبل سزائے موت سنائی تھی۔ لیکن اُن کے خاندان کے افراد اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ذوالفقار ایسے کسی جرم میں ملوث تھا۔

ذوالفقار جگر کے سرطان میں مبتلا ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اُن کی صحت انتہائی خراب ہے اور مرض اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ اب اس کا علاج ممکن نہیں۔

رواں سال کے اوائل میں ذوالفقار علی کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا جانا تھا لیکن اسے عین وقت پر روک دیا گیا۔

انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو کے رواں سال دورۂ پاکستان کے موقع پر صدر ممنون حسین نے بھی یہ معاملہ مہمان صدر کے سامنے رکھا تھا اور اُن سے ذوالفقار علی کی سزا کے معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھنے کی درخواست کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG