رسائی کے لنکس

logo-print

بنگلہ دیش: تازہ ترین حملہ، اہل کاروں کو داعش کے ملوث ہونے پر شبہ


وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ حکومت اس امکان کو مسترد نہیں کرتی کہ حملہ آوروں کا ملکی شدت پسند گروپوں اور کثیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے آپسی رابطے کا امکان ہوسکتا ہے

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں جمعرات کو مشتبہ شدت پسندوں نے مسجد کے قریب مہلک حملہ کیا، جہاں نماز عید کے لیے لاکھوں افراد جمع تھے۔ ملک کے وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ حکومت اس امکان کو مسترد نہیں کرتی کہ حملہ آوروں کا ملکی شدت پسند گروپوں اور کثیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے آپسی رابطے کا امکان ہوسکتا ہے۔

اب تک اعلیٰ بنگلہ دیشی اہل کاروں نے ملک میں داعش اور القاعدہ کی جانب سے گذشتہ برس کے دوران ہونے والی پُرتشدد کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے دعوؤں کو مسترد کیا ہے، جس میں زیادہ تر آزاد خیال افراد اور اقلیتیوں کو نشانہ
بنایا گیا۔ برعکس اِس کے، اہل کاروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اِن میں مقامی شدت پسند یا سیاسی مخالفین کے گروہ زیادہ ملوث ہوں گے۔

تازہ ترین حملے جمعرات کو اُس وقت ہوئے جب عید کا جشن جاری تھا، جب مشتبہ شدت پسند، جو دیسی ساختہ بموں اور کلہاڑیوں سے مسلح تھے، مسجد کے قریب ایک سکیورٹی چوکی پر حملہ کیا، جہاں ملک کا سب سے بڑا نماز عید کا اجتماع ہوتا ہے۔ حملے میں دو پولیس اہل کار اور ایک خاتون ہلاک ہوئے، جب کہ کشورگنج ضلعے میں ہونے والے حملے میں کم از کم نو افراد زخمی ہوئے، جو دارالحکومت ڈھاکہ سے تقریباً 140 کلومیٹر دور ہے۔ ایک شدت پسند ہلاک جب کہ تین گرفتار ہوئے۔

حکومت کی جانب سے اُس وقت کارروائی کی گئی جب مسلح حملہ آوروں نے ڈھاکہ کی بیکری سے 20 افراد کو اغوا کرکے اُنھیں ملک کے پہلے بدترین دہشت گرد حملے میں ہلاک کیا۔

اس حملے میں خاص طور پر غیر ملکیوں کو ہدف بنایا گیا۔ لیکن، جمعرات کا حملہ غیر معمولی تھا جس میں ایک مسلمان اجتماع کو نشانہ بنایا گیا، جو کہ اُن کا مقدس ترین دِن تھا۔

بنگلہ دیش کے وزیرِ اطلاعات حسان الحق اِنو نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا آیا اِس تازہ ترین حملے کا ذمہ دار کون تھا۔

اَنو کے بقول، ’’جہاں تک ہماری اطلاعات ہیں، اور جہاں تک گرفتار دہشت گردوں سے ہماری تفتیش پوئی ہے، ہمارے پاس کوئی تنظیمی قسم کا ثبوت موجود نہیں جس سے یہ پتا چلتا ہو کہ بنگلہ دیشی دہشت گردوں اور داعش کا آپسی گٹھ جوڑ ہے، یہی ہماری پوزیشن ہے۔ تاہم، ہم داعش، پاکستان، بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے ملوث ہونے کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہے ہیں‘‘۔

حالیہ ہفتوں کے دوران، حکومت نے ہزاروں افراد کو گرفتار کیا ہے، حالانکہ وہ اس بات کو رد کرچکی ہے کہ کوئی بین الاقوامی دہشت گرد گروپ ملوث تھا۔ داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ اُس کے لڑاکوں نے بیکری پر حملہ کیا اور منگل کو ایک وڈیو پیغام میں مزید حملوں کی دھمکی دی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG