رسائی کے لنکس

'جرگوں کے فیصلوں میں زیادہ تر عورتیں ہی نشانہ بنتی ہیں '


فائل فوٹو

پاکستان میں خواتین کے خلاف رونما ہونے والے مختف نوعیت کے واقعات کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سرگرم کارکن آواز بلند کرتے رہے ہیں اور انہیں کی کوششوں کی وجہ سے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ناصرف ملک میں موثر قانون سازی عمل میں لائی گئی بلکہ اس کے ساتھ انتظامی سطح پر بھی مختلف اقدامات کیے گئے ہیں لیکن اس پیش رفت کے باوجود ایسے واقعات میں کسی طور کمی دیکھنے میں نہیں آرہی ہے۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایسے تین واقعات پیش آئے جن میں ذاتی عناد یا عورتوں کے خلاف ہونے والے جنسی زیادتی کے تنازعات کو طے کرنے کے لیے نام نہاد پنچایت کے ذریعے نہ صرف عورتوں اور نوجوان لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کی گئی بلکہ ان کی مخالف فریق کے فرد کے ساتھ زبردستی شادی کروانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔

دو روز قبل ہی پیش آنے والے ایک ایسے ہی واقعہ میں ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں میں پولیس نے ایک پنچایت میں شامل 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جنہوں نے جنسی زیادتی کے تنازعہ کا تصفیہ کروانے کے لیے ایک کم عمر لڑکی کا نکاح ایک ایسے شخص سے کر دیا جس کی بیٹی کے ساتھ لڑکی کے بھائی نے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی تھی۔

ساہیوال پولیس کے ایک عہدیدار امجد جاوید کمبوہ نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے اس واقعہ میں مبینہ طور پر ملوث تمام افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

قبل ازیں ضلع لیہ میں ایک لڑکی اور لڑکے کی پسند کی شادی کی وجہ سے ان کے خاندانوں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے پنچایت کے حکم کے تحت ایک 10 سالہ لڑکی کی شادی ایک 17 سالہ لڑکے سے کر دی گئی۔ یہ واقعہ اسی دن کا ہے جس دن ملتان پولیس نے ان 20 افراد کو گرفتار کیا جنہوں نے ایک سترہ سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر انتقاماً جنسی زیادتی کانشانہ بنانے کا حکم دیا تھا ۔ اس لڑکی کے بھائی نے ایک بارہ سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تھی ۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب پولیس کے سربراہ سے رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔

نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی چیئر پرسن خاور ممتاز نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایسے واقعات میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن میں بعض مقامی بااثر افراد پنچایت یا جرگہ کے ذریعے اس طرح کے غیر قانونی فیصلے کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ،" نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہوئی ہے کہ جرگہ پر پابندی عائد کی جائے خاص طور وہ جرگے جو لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں۔"

خاور ممتاز نے مزید کہا کہ جہاں خواتین سے متعلق سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کی ضروورت ہے وہیں قانون کا موثر نفاذ بھی ضروری ہے۔

انہون نے کہا " ایک تو ہم لوگوں میں یہ آگاہی پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ کیا قوانین ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ونی میں کم عمر بچیوں کی شادی کر دی جاتی ہے جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔"

عورتوں کے حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ نام نہاد جرگوں میں جو فیصلے کیے جاتے ہیں ان میں عموماً عورتیں ہی ان کا نشانہ بنتی ہیں اور خاور ممتاز کا کہنا ہے کہ ان جرگوں میں ایسے فیصلے کرنے والے افراد کو اگر قانون کے ذریعے کیفر کردار تک پہنچایا جا ئے گا تو ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG