رسائی کے لنکس

عمران خان نااہلی کیس میں حینف عباسی کی ایک اور درخواست


فائل

حنیف عباسی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ موقف میں تبدیلی کی اجازت دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔

عمران خان نااہلی کیس کے مدعی حنیف عباسی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی منی ٹریل پر مزید اعترضات پر مبنی ایک اور درخواست دائر کردی ہے۔

درخواست میں لیگی رہنما نے موقف اختیار کیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست عدالتی نظام کی توہین ہے۔

اپنی درخواست میں حنیف عباسی نے سپریم کورٹ سے عمران خان کی جانب سے مؤقف میں تبدیلی کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا بھی کی ہے۔

متفرق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے کہا تھا کہ آف شور کمپنی لندن فلیٹ کی فروخت سے بنائی جب کہ فلیٹ کی فروخت کے بعد بھی نیازی سروسز کے اکاؤنٹ میں ٹرانزیکشنز ہوتی رہیں۔

درخواست میں حنیف عباسی نے موقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان کا عدالت میں اختیار کیے گئے اپنے پہلے موقف کو یادداشت کی بنیاد پر اور غلط مشورہ کہنے کا کوئی جواز نہیں، عدالت کے سامنے غلط بیانی پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی درخواست میں یہ نہیں بتایا گیا کہ موقف میں کہاں اور کیا تبدیلی کرنی ہے جب کہ قانون کے مطابق موقف میں درکار تبدیلی واضح کرنا ضروری ہے۔

حنیف عباسی نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ موقف میں تبدیلی کی اجازت دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا۔

درِخواست میں حنیف عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان کی درخواست عدالتی نظام کی توہین ہے اور لندن فلیٹ سے متعلق سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے جھوٹ بولا گیا جبکہ عمران خان جواب میں کہہ چکے ہیں کہ نیازی سروسز بے وقعت ہوچکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان دوسروں پر دیانت دار نہ ہونے کے الزامات لگاتے ہیں جبکہ اپنے عمل سے خود بھی راست گو اور صادق و امین نہیں رہے۔

عمران خان نااہلی کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ نے چند روز قبل سپریم کورٹ میں اپنی آف شور کمپنی 'نیازی سروسز' کے اکاؤنٹس کی بینک تفصیلات جمع کرائی تھیں۔

بعد ازاں عمران خان نے ایک متفرق درخواست میں ایک لاکھ پاؤنڈز کے حوالے سے عدالت میں اختیار کردہ اپنا موقف تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی جس پر حنیف عباسی نے متفرق درخواست دائر کی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG