رسائی کے لنکس

logo-print

پولیو رضاکاروں پر 3 دن میں 3 حملے، خاتون سمیت 3 ہلاک


فائل فوٹو

بلوچستان کے پسماندہ ضلع چمن میں انسدادِ پولیو ٹیم پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون پولیو ورکر ہلاک اور ایک زخمی ہو گئی ہیں۔

گزشتہ تین روز میں ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہم کے رضاکاروں پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ ان حملوں میں اب تک خاتون رضاکار سمیت تین افراد کی جان جا چکی ہے۔

کو ئٹہ میں پولیو ایمر جنسی سنٹر حکام نے بتایا کہ بلوچستان کے تین اضلاع کوئٹہ پشین اور قلعہ چمن میں تین روزہ پولیو مہم جاری تھی۔

نامہ نگار ستار کاکٹر کے مطابق مہم میں شریک دو خواتین پر مشتمل پولیو ٹیم افغانستان کی سرحد سے متصل علاقے کلی میر الزئی سلطانزئی میں گھر گھر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے میں مصروف تھیں۔ اس دوران مو ٹر سائیکل پر سوار نا معلوم مسلح افراد نے اُن پر اندھا دُھند فائرنگ شروع کردی جس سے دونوں خواتین شدید زخمی ہوگئیں ان میں سے ایک خاتون موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔

دوسری زخمی خاتون پولیو ورکر کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

اس واقعے کے بعد علاقے میں پولیو مہم عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔

اس سے قبل خیبر پختونخوا میں ہونے والے دو الگ الگ حملوں میں پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔

بنوں اور بونیر میں پولیو ٹیم پر حملوں کے بعد ان علاقوں میں انسدادِ پولیو کی مہم روک دی گئی تھی۔

تاحال حملوں کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ انسدادِ پولیو مہم کو منظم طریقے سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب رواں سال اب تک ملک بھر میں پولیو کے آٹھ کیس رپورٹ ہوچکے ہیں۔ ان آٹھ میں سے چھ کیس خیبر پختونخوا میں سامنے آئے ہیں۔

پشاور میں رواں ہفتے انسدادِ پولیو مہم کے پہلے ہی دن ایک نجی اسکول میں پولیو ویکسینیشن کے بعد مبینہ طور پر کئی بچوں کی طبعیت خراب ہونے کے واقعے کے بعد سے والدین تحفظات کا شکار ہیں۔

گو کہ حکومت نے اس واقعے کو سازش اور پولیو ویکسین کے خلاف پراپیگنڈہ قرار دیا ہے اور اس میں ملوث بعض افراد کو گرفتار بھی کیا ہے، لیکن والدین کی بڑی تعداد اب بھی مطمئن نہیں۔

واقعے کے بعد ہزاروں بچوں کو طبی معائنے کے لیے خیبر پختونخوا کے مختلف اسپتالوں میں لایا گیا تھا لیکن صوبائی محکمۂ صحت کے مطابق ان میں سے کوئی بھی پولیو کے بچاؤ کے قطرے پلانے سے متاثر نہیں ہوا تھا۔

لیکن رضاکاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد سے اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکاری والدین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا دنیا کے وہ ممالک ہیں جہاں پولیو کا وائرس بدستور موجود ہے۔

چند سال قبل عالمی ادارۂ صحت نے پولیو کے متعدد کیسز سامنے آنے پر پاکستان پر سفری پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG