رسائی کے لنکس

logo-print

پولیو ویکسین سے بچوں کی حالت بگڑنے کی افواہ، مشتعل ہجوم کا مرکز صحت پر دھاوا


انسداد پولیو مہم کے دوران ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔ فائل فوٹو

پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو کی چھ روزہ مہم کے پہلے روز شہر کے نواحی علاقوں میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کے بعد دو اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کی حالت بگڑ گئی۔

متاثرہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کے فوراً بعد قے کی شکایت ہو گئی اور فوری طور پر انہیں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں نے طبی امداد کے بعد ان کی حالت کو خطرے سے باہر قرار دیا۔

تاہم ردعمل میں بڈھ بیر علاقے کے گاؤں ماشوخیل میں مشتعل لوگوں نے ایک بنیادی مرکز صحت پر حملہ کر کے اسے شدید نقصان پہنچایا اور اس کے مختلف حصوں کو آگ لگا دی۔

پشاور کے اسٹنٹ کمشنر شہباز خٹک نے ذرائع ابلاع کے نمائندوں کو بتایا کہ پشاور کے مختلف علاقوں میں انسداد پولیو مہم آج سے شروع ہوئی۔ مہم کے دوران بعض اسکولوں میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کے بعد بعض بچوں کی حالات بگڑنے کی اطلاعات ملیں جس کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا اور عوام سے درخواست کی کہ وہ سوشل میڈیا پر جاری افواہوں پر کان نہ دھریں۔

شہباز خٹک نے تصدیق کی کہ ماشوخیل میں لوگ مشتعل ہو گئے جنہوں نے بی ایچ یو(بنیادی مرکز صحت) پر حملہ کر کے اسے نقصان پہنچایا۔ تاہم مرکز صحت میں موجود عملے کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

انسداد پولیو مہم کے لیے وزیراعظم کے فوکل پرسن بابر بن عطاء نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے کوئی بھی متاثر نہیں ہو سکتا۔ وہ ازخود پشاور پہنچ کر حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

متاثرہ اسکولوں کی انتظامیہ میں شامل اساتذہ سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم ان میں سے ایک اسکول کے پرنسپل کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ اُس نے پہلے بھی بچوں کو پولیو ویکیسن پلوانے سے انکار کیا تھا۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ پولیو کے قطرے پلانے کے ساتھ اقراء ماڈل اسکول کے بچوں میں وٹامن والے بسکٹ تقسیم کیے گئے تھے جس کے کھانے کے بعد بعض بچے متاثر ہوئے۔

اس واقعہ کے بعد پشاور بھر میں لوگ ایک دوسرے کو ٹیلی فون کر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے منع کرتے رہے۔

خیبر پختونخوا کے گورنر شاہ فرمان اور وزیر اعلیٰ محمود خان نے واقعہ کا نوٹس لے کر محکمہ صحت کے عہدیداروں کو فوری طور پر تحقیقات کر کے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

پیر سے شروع ہونے والی اس مہم میں پشاور میں پہلی بار پانچ سال کی بجائے دس سال کی عمر تک کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائے جا رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG