رسائی کے لنکس

باجوڑ بم حملے میں حکومت کے حامی قبائلی رہنما ہلاک


فائل فوٹو

گزشتہ دو روز میں قبائلی علاقوں میں عسکریت پسند مخالف اور حکومت کے حامی قبائلی رہنماؤں پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ہونے والے ایک بم حملے میں طالبان مخالف ایک قبائلی رہنما ہلاک ہوگئے ہیں۔

گزشتہ دو روز میں قبائلی علاقوں میں عسکریت پسند مخالف اور حکومت کے حامی قبائلی رہنماؤں پر حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

باجوڑ ایجنسی کی انتظامیہ میں شامل اہلکاروں نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ملک عبدالرحمان کی گاڑی کو جمعے کی صبح اس وقت دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے گائوں سے ایجنسی ہیڈ کوارٹر خار آرہے تھے۔

سڑک میں نصب ریموٹ کنٹرول بم کے دھماکے کے نتیجے میں ملک عبدالرحمان کی گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی جبکہ وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

ملک عبدالرحمان کا تعلق باجوڑ ایجنسی کی تحصیل ماموند سے تھا اور وہ طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف قائم کردہ کمیٹی کے سربراہ بھی تھے۔

قبائلی رہنما پر بم حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے جائے وقوع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کردیا۔ تاہم ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری یا جوابی کارروائی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

انتظامی عہدیداروں نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے لیکن ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے ملک عبدالرحمان پر بم حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اس سے قبل جمعرات کی صبح اورکزئی ایجنسی میں ایک گاڑی پر دیسی ساختہ ریموٹ کنٹرول بم حملے سے دو قبائلی رہنما ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جون 2014ء کے وسط میں شروع کی جانے والی عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے نتیجے میں بظاہر امن وامان کی صورتِ حال بہتر ہوئی ہے مگر اب بھی تمام قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں وقتاً فوقتاً دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

وفاقی حکومت کے مطابق 2014ء میں فوجی آپریشن کے بعد سے 2017ء کے اختتام تک قبائلی علاقوں میں لگ بھگ چار ہزار افراد دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG