رسائی کے لنکس

logo-print

عوامی نیشنل پارٹی کا سکیورٹی خدشات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ


پشاور پریس کلب کے سامنے جمعرات کو عوامی نیشنل پارٹی اور پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنان اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ریاستی اداروں کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ریاستی اداروں کے ’غیرذمہ دارانہ‘ رویہ کے خلاف نعرے لگائے۔

رواں مہینے میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررزم اتھارٹی اسلام آباد نے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کو ایک تھریٹ الرٹ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ان پر افغانستان سے ایک نوجوان خودکش حملہ کرنے کے لئے آ رہا ہے۔

پشتونا سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سیکرٹری اطلاعات محمد سلیمان نے وائس اف امریکہ کو بتایا کہ میاں افتخار کو الیکشن والے دن اداروں کی جانب سے ایک الرٹ جاری کیا تھا جس میں انہیں گھر تک محدود رہنے اور عوام میں گھلنے ملنے سے منع کیا تھا۔

محمد سلیمان نے کہا کہ جب پارٹی نے الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف مظاہرے شروع کئے تو اس میں بھی میاں افتخار پیش پیش تھے جس پر انہیں دوبارہ تھریٹ جاری کئے گئے کہ افغانستان سے ایک عورت اور 18 سالہ خودکش بمبار افتخار پر حملہ کرنے پاکستان پہنچ چکے ہیں جبکہ اس ماہ کی 10 تاریخ کو ایک بار پھر الرٹ جاری کیا گیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کی نائب صدر بشریٰ گوہر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر اداروں کو اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ خود کش کا رنگ اور قد کتنا ہے تو وہ الرٹ جاری کرنے کے بجائے اسے گرفتار کیوں نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ یہ دراصل خوف پھیلانے کی ایک کوشش ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔

اس موقع پر اے این پی کی کارکن جمیلہ گیلانی نے کہا کہ اگر ہمارے کسی رہنما کو اس مرتبہ کچھ ہوا تو ہم چپ نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو نامعلوم افراد بن کر وار کرتے ہیں اب ان کی اصلیت کُھل کر سامنے آ گئی ہے۔

یہاں یہ بات ضروری ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین پر اس سے قبل بھی حملے ہوئے ہیں۔ الیکشن سے ایک ہفتہ قبل پشاور سے پی کے 87 کے امیدوار ہارون بلور ایک خودکش حملے میں قتل ہوئے جبکہ جولائی 2010 کو افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے میاں راشد حسین کو نوشہرہ میں نامعلوم افراد نے گولی مار کر قتل کیا تھا۔

احتجاج
please wait
Embed

No media source currently available

0:00 0:01:45 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG