رسائی کے لنکس

انٹارکٹیکا: گلیشیئر کا ہزاروں کلومیٹر ٹکڑا الگ ہوگیا


سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی تصویر میں گلیشیئر کا ٹوٹا ہوا حصہ نظر آ رہا ہے۔ 12 جولائی 2017

گلیشیئر کے اس ٹکڑے کا رقبہ تقریباً امریکی ریاست ڈیلاوئر یا انڈونیشیا کے جزیرے بالی کے برابر ہے۔

برفانی علاقے انٹارکٹیکا میں گلیشیئر کا ایک بہت بڑا ٹکڑا ٹوٹ کر الگ ہو گیا ہے۔

بدھ کے روز سائنس دانوں نے بتایا کہ گلیشیئر کے ٹوٹنے سے اس براعظم کے گرد سفر کرنے والے بحری جہازوں کے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا۔

سائنس دانوں کا تخمینہ ہے کہ الگ ہونے والے ٹکڑے کا وزن ایک ٹریلن ٹن اور اس کا رقبہ 5800 مربع کلومیٹر ہے۔

یونیورسٹی آف سوانسی اور برطانوی سائنسی ادارے برٹش اینٹارٹک سروے کے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹکڑا انٹارکٹیکا کے لارسن سی کے علاقے سے 10 اور 12 جولائی کے درمیان الگ ہوا۔

گلیشیئر کے اس ٹکڑے کا رقبہ تقریباً امریکی ریاست ڈیلاوئر یا انڈونیشیا کے جزیرے بالی کے برابر ہے۔ سائنس دانوں نے اس کے ٹوٹنے کی پیش گوئی کئی مہینے پہلے کر دی تھی اور وہ یورپین سپیس ایجنسی کے سیٹلائٹس کے ذریعے اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

اس گلیشیئر پر نظر رکھنے والی ٹیم کے سربراہ سوانسی یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈرین لکمن کا کہناہے کہ یہ معلوم تاریخ میں ٹوٹنے والا گلیشیئر کا سب سے بڑا ٹکڑا نےاور اس بارے میں پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ آیا اس میں مزید ٹوٹ پھوٹ ہوگی یا یہ ایک اکائی کی صورت میں برقرار رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ٹکڑے کی صورت میں بھی برقرار رہ سکتا ہے اور لیکن زیادہ امکان یہ ہے کہ اس میں مزید شکست وریخت ہوگی۔ اور اس کے ٹکڑے شمال کی جانب گرم پانیوں کی طرف چلے جائیں گے۔ لیکن اس عمل میں کئی عشرے لگ سکتے ہیں۔

برف کی ٹوٹ پھوٹ سے بحری جہازوں کے لیے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اس براعظم کے پاس کئی تجارتی آبی راستے گذرگاہیں موجود ہیں جن میں سے اکثر کی منزل جنوبی افریقہ ہوتی ہے۔

سن 2009 میں اس علاقے میں ایک بحری جہاز آئس برگ سے ٹکرانے کے بعد ڈوب گیا تھا اور اس پر سوار 150 سے زیادہ افراد کو ڈوبتے جہاز سے نکال کر ان کی جانیں بچائی گئی تھیں۔

پروفیسر لکمن کہتے ہیں کہ ہمارے تجزیاتی ماڈل یہ بتاتے ہیں کہ الگ ہونے والے ٹکڑے کا موجودہ حالت میں قائم رہنا بظاہر مشکل ہے۔ اس میں مزید ٹوٹ پھوٹ ہو سکتی ہے لیکن اس عمل میں عشرے لگیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG