رسائی کے لنکس

واشنگٹن میں اسقاط حمل کے خلاف مارچ میں ٹرمپ کی شرکت


مارچ فار لائف

واشنگٹن ڈی سی میں 'مارچ فار لائف' کی سالانہ ریلی میں جمعے کے روز ہزاروں افراد نے شرکت کی، جن میں پہلی بار ایک امریکی صدر بھی شامل تھے۔

سخت سردی کے باوجود، ہزاروں کی تعداد میں خواتین، مرد اور بچوں نے اس مارچ میں حصہ لیا۔

اسقاط حمل کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے،شرکا اس عمل کے خلاف ٹھوس قوانین تجویز کر رہے تھے۔

ریلی میں امریکہ بھر سے آئے ہوئے سرگرم کارکنوں کے وفود بھی شامل تھے۔

مارچ فار لائف گذشتہ سینتالیس سالوں سے ہر سال جنوری کی 24 تاریخ کو نکالا جاتا ہے، جس میں سرگرم کارکنان، جن میں خواتین سر فہرست ہیں، اسقاط حمل کے خلاف تقاریر کرتی ہیں۔

شرکا سے خطاب کرتے ہوئے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ “میں نے عہدہ سنبھالنے کے پہلے ہی روز نا مولود بچوں کے تحفظ کےلیے تاریخی اقدامات اٹھائے”۔

بقول صدر، “ہم سب کو مل کر ہر انسانی زندگی کی حرمت کا دفاع کرنا ہوگا“۔

مظاہرے میں شریک ریاست کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون مے جنیفر کا کہنا تھا کہ “میں آج یہاں اس لئے آئی ہوں تاکہ دنیا کو یہ بتا سکوں کہ اسقاط حمل سے نہ صرف بچے ہلاک ہوتے ہیں بلکہ خاندان بھی تباہ ہوتے ہیں۔ یہ معاشرے کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے”۔

مارچ فار لائف مظاہرے کا آغاز انیس سو تہتر میں اس وقت ہوا جب امریکی سپریم کورٹ نے ایک فیصلے کے تحت 'ابورشن' یا اسقاط حمل کو قانونی قرار دیا۔ لیکن، امریکہ میں اب بھی ایسی ریاستیں ہیں جہاں اسقاط حمل غیر قانونی ہے۔

ربیکا ڈاؤن گولڈ برگ ریاست میری لینڈ سے آئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ “میرے خیال میں یہ اس لئے اہم ہے کیونکہ یہ مارچ امریکہ میں ہو رہا ہے۔ امریکہ میں اسقاط حمل کے حوالے سے قانون کے نفاذ میں باقی دنیا کے مقابلے میں نرمی برتی جاتی ہے۔ میرے خیال میں، وقت آگیا ہے کہ یہ تبدیل ہو“۔

اس مظاہرے میں مردوں کی ایک بڑی تعداد بھی اسقاط حمل کے خلاف آواز بلند کرتی نظر آئی۔

شرکا کا مطالبہ تھا کہ امریکی حکومت ملک کے اندر اور باہر امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کی اُس فنڈنگ کو روکے جو اسقاط حمل کے نام پر مختص کی جاتی ہے۔

ریاست نیو یارک سے تعلق رکھنے والے سٹیون کیش کا کہنا تھا کہ “میں آج یہاں اس لئے آیا ہوں تاکہ زندگی کی قدر اور احترام کا عملی مظاہرہ پیش کر سکوں۔ اور ان تمام زندگیوں کے تحفظ کے لئے آیا ہوں جو اسقاط حمل کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں”۔

اسقاط حمل امریکی انتخابات کا ایک اہم موضوع بھی ہے۔

گذشتہ ہفتے، امریکہ کے مختلف شہروں میں خواتین نے ریلیاں نکالیں، جن میں انہوں نے کئی امور کے علاوہ 'ابورشن' کے حق میں بھی آواز بلند کی۔

امریکہ میں آج بھی اسقاط حمل کے حق میں اور اس کے خلاف زوردار بیان بازی اور بڑی بڑی ریلیاں نکالنا عام سی روایت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG