رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں انتہائی سخت سیکورٹی میں انسداد پولیو مہم


سیکورٹی انتظامات کو اس قدر ترجیح دی جا رہی ہے کہ جن علاقوں میں صورتحال اطمینان بخش نہیں وہاں مہم میں تاخیر کردی گئی۔ لیکن، سیکورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا

کراچی میں چار روزہ انسداد پولیو مہم اس بار انتہائی سخت سیکورٹی میں شروع ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ، کمشنر کراچی، آئی جی سندھ اور محکمہ صحت اور شہری انتظامیہ ۔۔۔ سب کی یہ کوشش ہے کہ مہم کامیابی سے ہمکنار ہو۔

سیکورٹی انتظامات کو اس قدر ترجیح دی جارہی ہے کہ جن علاقوں میں صورتحال اطمینان بخش نہیں وہاں مہم میں تاخیر کردی گئی۔ لیکن، سیکورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا گیا۔

انسپکٹرجنرل آف سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کی خصوصی ہدایات پر مہم کے رضاکاروں کو سیکورٹی فراہم کرنے کی ذمے داری 5000 پولیس اہلکاروں کو سونپی ہے۔ ساتھ ہی، انہیں یہ ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہ مہم کے دوران وہ لازمی طور پر بلٹ پروف جیکٹس پہنیں۔

ادھر وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اے ڈی خواجہ کو ہدایت کی ہے کہ شہر کے تمام علاقوں تک انسداد پولیو ٹیمز کی رسائی یقینی بنائی جائے۔

انہوں نے مہم کے دوران پولیس اہلکاروں کی سلامتی کے لئے بھرپور اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔

مہم کا باقاعدہ افتتاح کمشنر کراچی آصف حیدر شاہ نے کیا۔ ان کی جانب سے وائس آف امریکہ کو جاری کردہ معلومات کے مطابق، چار روزہ انسداد پولیو مہم، کراچی کے تمام اضلاع میں جاری ہے جس میں پانچ سال تک کی عمر کے بائیس لاکھ بچوں کو انسداد پولیو قطرے پلائے جائیں گے۔

حکام نے مہم کے آغاز سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ فوجی اہلکاروں کو اسٹینڈ بائی رکھا گیا ہی اور کسی بھی ڈسرکٹ میں ضرورت پڑنے پر انہیں تعینات کیا جائے گا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ٹیموں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی گئی ہے۔ سندھ پولیس کی اسپیشل سیکورٹی یونٹ کے 300 کمانڈوز بھی پولیو ٹیموں کی سیکورٹی کا حصہ ہیں۔ان میں خواتین اہلکاربھی شامل ہیں۔

اس کے باوجود کراچی کے دو علاقوں گڈاپ اور بلدیہ ٹاؤن میں پولیو ٹیموں کی سیکورٹی کا خاطرخواہ بندوبست نہیں ہوسکا۔ بعض علاقوں میں دوگھنٹے انتظار کے بعد بھی، پولیو ٹیموں کو سیکورٹی نہیں مل سکی جس کے سبب مہم تاخیر کا شکار ہوئی۔

ملیرکنٹونمنٹ بورڈ کی انتظامیہ نے بتایا کہ آرمی افسر بطور مبصر مختلف اضلاع میں ڈپٹی کمشنرکے آفس میں قائم پولیو کنٹرول رومز میں موجود رہے۔ فوجی اہلکاروں نے ٹیموں کے جمع ہونے کی جگہ کا بھی دورہ کیا اور سیکورٹی انتظامات کابھی جائزہ لیا۔

رینجرز حکام کو بھی حساس علاقوں میں پیڑولنگ بڑھانے کی ہدایت تھیں اور انہوں نے ان ہدایات پر عمل بھی کیا۔

مہم کراچی کے 6 اضلاع کی 188 یونین کونسلوں میں جاری ہے۔ اس بار 22 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ادھر کمشنر آفس میںانسداد پولیو ہیلپ لائن بھی قائم کر دی گئی ہے، جس کا نمبر ایک دو نو نو ہے۔ یہاں ٹیمیں نہ پہنچنے کی شکایت بھی کی جاسکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG