رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان و افغانستان میں انسداد پولیو مہم مزید موثر بنانے پر اتفاق


روزانہ14000سے زائد افراد پاک افغان سرحد عبور کرتے ہیں جن میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 900 بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ موجودہ پولیو ٹیموں کی مدد سے روزانہ اوسطاً 600 بچوں کو پولیو قطرے پلائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر روز 300 بچے پولیو قطروں سے محروم رہ جاتے ہیں۔

کراچی... پاکستان اور افغانستان کے حکام نے سرحدی علاقوں میں شروع کی جانے والی انسدادِ پولیو مہم کے لئے مزید موثر حکمت عملی بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

اس سلسلے میں ایمرجنسی آپریشن سینٹر(ای اوسی)بلوچستان کے وفد اور افغان پولیو ٹیموں کا چمن میں اجلاس ہوا۔ ای او سی کے وفد کی سربراہی ڈاکٹر سید سیف الرحمٰن نے کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت افغان وزارت پبلک ہیلتھ کے عزاللہ کاکٹر کر رہے تھے۔

اجلاس میں سرحدی علاقوں میں انسداد پولیو مہم کا جائزہ لیا گیا۔ کمشنر کوئٹہ قمبر دشتی، ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ خدائے داد، اسٹاف آفیسر ڈاکٹر آفتاب کاکٹر، افغان حکام ڈاکٹر سعادت اور ڈاکٹر محمد عیسیٰ اور عالمی ادارہ صحت و یونیسف کی ٹیمیں بھی اجلاس میں موجود تھیں۔

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ روزانہ14000سے زائد افراد پاک افغان سرحد عبور کرتے ہیں، جن میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 900 بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ موجودہ پولیو ٹیموں کی مدد سے روزانہ اوسطاً 600 بچوں کو پولیو قطرے پلائے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر روز 300 بچے پولیو قطروں سے محروم رہ جاتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے حکام نے باہمی تعاون کو بڑھانے اور پولیو ٹیموں کی تعداد میں اضافہ کرنے پر اتفاق کیا، تاکہ ہر بچے کو انسداد پولیو قطرے پلانے کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں اس بات کا انکشاف بھی کیا گیا کہ جنوبی افغانستان اور بلوچستان میں پولیو کی وبا عام ہے اور یہی وہ علاقے ہیں جہاں دنیا بھرمیں گذشتہ چند سالوں میں سب سے زیادہ پولیو کیسز رپورٹ ہوئے۔

انسداد پولیو مہم میں تعاون اورمدد حاصل کرنے کے لئے پاک افغان وفود نے علیحدہ علیحدہ ایف سی بلوچستان کے سینئر حکام سے ملاقات کی۔

کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سید سیف الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ملاقاتیں مثبت اورنتیجہ خیز رہیں۔ دونوں ملکوں کے حکام نے خطے سے پولیو کے خاتمے کا عزم کیا۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ چمن میں پاک افغان سرحد پر قائم ’باب دوستی‘ پر ایف سی اہلکار پولیو ٹیموں کی نگرانی اورمدد کریں گے۔ایف سی اہلکاروں کو سرحدی علاقوں میں بچوں کو ویکسی نیشن فراہم کرنے کے لئے باقاعدہ ٹریننگ دی جائے گی۔

ڈاکٹر سیف الرحمٰن نے بتایا کہ باب دوستی اور پاک افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں انسداد پولیو کوریج 100 فیصد ہے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ ان علاقوں کے لئے مزید ٹیمیں بنائی جائیں گی جو پابندی سے دورے کریں گی۔

بچوں کو انسداد پولیو قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین یا سرپرستوں کو قائل کرنے کے لئے پاکستان اور افغانستان نے مصدقہ بین الاقوامی مذہبی اسکالرز کے فتووٴں کو استعمال کرنے پر اتفاق کیا۔افغانستان حکام نے پاکستان کے تیار کردہ پولیو ویکسین اعلامیے کو بھی سراہا۔

کوم نیٹ کے عبدالباسط نے اجلاس کو بتایا کہ ان علاقوں میں پولیو قطرے پلانے سے انکار کے 13000کیسز تھے۔ لیکن، سوشل موبلائزر متعارف کرانے کے بعد اب ہر انسداد پولیو مہم میں 5000کیس ریکارڈ ہورہے ہیں جبکہ 4000کیسز کو کور کرلیا گیا ہے۔ ہر مہم میں پولیو قطرے پینے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس کو قائم رکھنے کے لئے مزید کوششیں کرنا ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG