رسائی کے لنکس

ججوں، جرنیلوں کے احتساب کی درخواست پر سپریم کورٹ کا اعتراض


Supreme Court of Pakistan-Islamabad-April 20, 2017

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے جج صاحبان اور فوجی جرنیلوں کے احتساب کے لیے دائر درخواست کو 'بدنیتی پر مبنی' قرار دیتے ہوئے اس پر اعتراض کیا ہے۔

وطن پارٹی کے سربراہ بیرسٹر ظفر اللہ خان نے اگست میں سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ ججز اور جنرلز کی حلف برداری میں صادق و امین کا لفظ موجود نہیں اور یہ آئین کی شق 62 اور 63 کی خلاف ورزی ہے۔

ان کا موقف تھا کہ آئین کے تحت پارلیمان ملک کا مقتدر ادارہ ہے جب کہ جج صاحبان اور فوجی افسران کا احتساب پارلیمنٹ کے ذریعے کرنا آئین کا تقاضا ہے۔

تاہم پیر کو عدالت عظمیٰ نے درخواست پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے اس بابت متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا اور ایسا نہ کرنے کا واضح جواز بھی پیش نہیں کیا لہذا اس کی سماعت نہیں کی جا سکتی۔

بیرسٹر ظفراللہ نے اس اعتراض کا جواب سپریم کورٹ کے لاہور بینچ میں داخل کرا دیا ہے جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ججوں کے احتساب کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل موجود ہے لیکن ان کے بقول آج تک کسی جج کو اس نے فارغ نہیں کیا۔

اپنے جواب میں ان کا مزید کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ججوں اور جرنیلوں کو اپنی آمدن اور اخراجات کے اعداد و شمار پارلیمان کی احتساب کمیٹی کے روبرو پیش کرنے کے پابند ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ "صادق اور امین" ہونے سے متعلق آئینی شق عوامی نمائندوں کے لیے ضروری ہے اور گزشتہ ماہ ہی حکومت نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ان شقوں میں ترمیم لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ حکومتی اشارہ عدالت عظمیٰ کے 28 جولائی کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو پانچ رکنی بینچ نے پاناما کیس میں اس بنا پر عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نا اہل قرار دے دیا تھا کہ انھوں نے اپنے بیٹے کی بیرون ملک کمپنی کی طرف سے مقرر کردہ اپنی تنخواہ کا ذکر آمدن سے متعلق گوشواروں میں نہیں کیا لہذا وہ آئین کی شق 62 کے تحت صادق و امین نہیں رہے۔

نواز شریف کا موقف رہا ہے کہ انھوں نے یہ تنخواہ کبھی وصول نہیں کی اور اسی بنا پر انھوں نے اسے ظاہر بھی نہیں کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG