رسائی کے لنکس

logo-print

نیا 'آئی فون 12' متعارف، ایپل 'فائیو جی' کی دوڑ میں بھی شامل


ٹیکنالوجی کمپنی 'ایپل' نے ایک ورچوئل تقریب میں نیا آئی فون 12 لانچ کیا ہے جو تیز رفتار فائیو جی ٹیکنالوجی سے بھی منسلک ہو سکے گا۔ انتظامیہ کو اُمید ہے کہ صارفین نئے آئی فون کے جدید فیچرز کے باعث اسے ترجیح دیں گے۔

منگل کو ہونے والی ورچوئل تقریب میں ایپل کے سربراہ ٹم کک نے نیا فون متعارف کرایا۔

نئی آئی فون 12 سیریز میں 6.1 انچ کی ڈسپلے اسکرین کے ساتھ آئی فون 12، 5.4 انچ اسکرین کے ساتھ آئی فون 12 منی، اور آئی فون 12 پرو کے تین ورژن متعارف کروائے گئے ہیں۔ ان فونز کی قیمت 699 ڈالر سے لے کر 1399 ڈالر تک ہے۔

ان میں سب سے بڑا فون، آئی فون 12 پرو میکس ہے جس کی ڈسپلے اسکرین 6.7 انچ ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنی 'ٹیکنیلاسیس' کے سربراہ باب اوڈینل نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا کہ نیا فون خریدنے والے یہ توقع کریں گے کہ اُنہیں تیز رفتار انٹرنیٹ اسپیڈ ملے۔ کیوں کہ اُن کے بقول فائیو جی کی راہ میں اب بھی بہت سی چھوٹی چھوٹی چیزیں حائل ہیں۔

انہوں نے کہا ایپل کے نئے پراڈکٹ سے کچھ لوگ مایوس ہوں گے کیونکہ ان کے پاس نیا آئی فون تو آجائے گا مگر ان کے نیٹ ورک کی اسپیڈ ابھی بھی پرانی جنریشن پر مبنی ہو گی۔

انہوں نے کہا "میرا نہیں خیال کہ ایپل نے اس بات کی درست طور پر وضاحت کی ہے۔"

البتہ، ایپل کا کہنا ہے کہ امریکہ میں آئی فون 12 کے تمام فونز فائیو جی ٹیکنالوجی کو سپورٹ کریں گے۔ جب کہ دوسری جانب ابھی تک امریکہ کے زیادہ تر حصوں میں فائیو جی کے سگنلز دستیاب نہیں ہیں۔

امریکہ سے باہر آسٹریلیا اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں بھی جہاں جہاں فائیو جی ٹیکنالوجی ابھی تک مکمل طور پر متعارف نہیں ہوئی ہے وہاں یہ فون دستیاب نیٹ ورکس کے مطابق ہی صارف کو سروس دیں گے۔

ایپل کا کہنا ہے کہ اس نے دنیا بھر کے 30 خطوں میں 800 نیٹ ورکس پر فائیو جی پر تجربات کیے ہیں۔ امریکی موبائل نیٹ ورک 'ورائژن' کے سی ای او ہانس ویسٹ برگ نے ایپل کی لائیو سٹریم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئے آئی فون 12 امریکہ میں ان کے نیٹ ورک پر فائیو جی استعمال کر سکیں گے۔

یہ موبائل ایپل کی جانب سے لانچ کے ایک مہینے تک دستیاب ہوں گے۔ امریکہ، برطانیہ، چین اور کچھ دوسرے ممالک میں 16 اکتوبر سے آرڈرز کی وصولی شروع ہو جائے گی جب کہ فونز کی ترسیل کا آغاز 23 اکتوبر سے ہو گا۔

آئی فون منی اور پرو میکس چھ اور 13 نومبر سے اسٹورز پر دستیاب ہوں گے۔

'لانگبو ایسٹ مینیجمنٹ' کے چیف ایگزیکٹو جیک ڈالرہائیڈ کا کہنا ہے کہ ایپل کو کرونا وائرس کی وجہ سے صارفین کی جانب سے سرد ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "کرونا وائرس اور سردیوں کے فلو کے سیزن کے ربط کی وجہ سے لوگ گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کرسمس پر آئی فون کی فروخت مشکل ہو جائے گی۔ جہاں ایپل ٹیکنالوجی کی کمپنی ہے، وہیں یہ آن لائن فروخت کی وجہ سے نہیں جانی جاتی، اس کی وجہ شہرت اسٹور میں جا کر خریدنے کے تجربے سے ہے۔"

تقریب کے دوران ایپل کے شئیرز کی قیمت میں 3 فی صد کمی دیکھنے میں آئی۔ اسٹاک مارکیٹ میں اس کے شیئر کی مالیت 77 ارب ڈالر کم ہو گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG