رسائی کے لنکس

logo-print

چور باغ سے 7000 پاؤنڈ سیب توڑ کر لے گئے


باغ سے سیب چنے جا رہے ہیں۔

امریکی ریاست مشی گن کے ایک باغ سے چور سات ہزار پاؤنڈ سیب توڑ کر ایسے غائب ہوئے کہ کوئی نشان تک نہیں چھوڑا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ باغ کے قریب ایک کچے راستے پر ٹائروں کے کچھ نشان دیکھے گئے، لیکن اس کے آگے پختہ سڑک شروع ہو جاتی ہے۔ پھر وہ کہاں گئے کچھ پتا نہیں ہے۔

چوری کا یہ حیرت انگیز واقعہ مشی گن کے قصبے فلنٹ کے نزدیک واقع سیبوں کے ایک باغ میں پیش آیا۔ ’سپائسر آرچرڈز‘ کے نام سے معروف اس باغ کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ لوگ یہاں پکنک کے لیے آتے ہیں اور وہ کچھ رقم دے کر درختوں سے خود سیب چنتے ہیں۔

اس باغ میں قیمتی سیبوں کے درخت ہیں جو مہنگی مارکیٹوں میں فروخت کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔ ان سیبوں سے خاص قسم کا جوس بھی تیار کیا جاتا ہے۔

باغ کی مالکن شینن روئے نے سی این این ٹیلی وژن کو بتایا کہ چرائے گئے سیبوں کی مالیت کا اندازہ 15 سے 25 ہزار ڈالر کے درمیان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چند روز پہلے انہوں نے باغ میں سیبوں کو دیکھا تھا۔ تب ان کے تیار ہونے میں تقریباً ایک ہفتہ باقی تھا۔ لیکن، جب وہ اپنے کارکنوں کے ساتھ سیب توڑنے کے لیے آئیں تو درختوں سے تمام تیار سیب غائب تھے۔

شینن نے بتایا کہ سات ہزار پاؤنڈ سیب توڑنا کوئی کھیل نہیں ہے۔ اگر تین تجربہ کار افراد سیب توڑنے پر لگائے جائیں تو انہیں لگ بھگ ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ لیکن صرف چند گھنٹوں میں درختوں سے سات ہزار پاؤنڈ سیب چننا ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ معلوم نہیں کہ وہ کتنے کارکن لے کر آئے تھے۔ اگر وہ زیادہ لوگ ہوتے تو آس پاس والوں کو شک پڑتا کہ یہ کون ہیں۔ لگتا ہے کہ لوگ کم تھے لیکن بہت پھرتیلے اور تجربہ کار تھے۔

کاؤنٹی کے شیرف رابرٹ پیکل نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے باغ کے آس پاس رہنے والوں سے پوچھ گچھ کی ہے، لیکن کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ علاقے میں نگرانی کے کیمرے بھی نصب نہیں ہیں۔ اس لیے یہ پتا نہیں چل سکا کہ سیب چرانے کون آیا تھا اور کس طرح کی گاڑیوں میں سوار ہو کر آیا تھا۔ شیرف نے بتایا کہ گزشتہ 50 سال کے دوران اس علاقے میں چوری کا کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔

لیکن آس پاس کے علاقوں میں باغوں سے چوری کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ پچھلے مہینے لافورٹ کاؤنٹی کے ایک باغ سے 50 ہزار سیب چرا لیے گئے لیکن چوروں کا سراغ نہیں مل سکا۔ اب چونکہ ہالووین قریب ہے جس میں پیٹھا کدو کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور اس کے لیے ایک خاص قسم کا پیٹھا کدو کاشت کیا جاتا ہے۔ چند روز پہلے مشی گن کے ایک اور فارم سے 400 تیار پیٹھا کدو چرا لیے گئے۔

باغوں میں چونکہ چوری چکاری کے واقعات خال خال ہی ہوتے ہیں، اس لیے یہاں نگرانی کے آلات لگانے پر کوئی دھیان نہیں دیتا۔ غالباً اسی لیے چوروں کی توجہ باغوں کی جانب ہو گئی ہے۔

شینن روئے کا کہنا ہے کہ باغ کے دوسرے حصے میں سیب کی فصل تیار ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنے باغ کے دروازے پکنک پر آنے والوں کے لیے کھلے رکھے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG