رسائی کے لنکس

logo-print

لاہور میوزیم میں نصب 'شیطانی' مجسمے کے خلاف عدالت میں درخواست


لاہور کے عجائب گھر کے باہر نصب متنازع مجسمہ

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے عجائب گھر کے صحن میں حال ہی میں نصب کیے جانے والے ایک مجسمے کے خلاف ایک خاتون وکیل نے صوبے کی اعلیٰ ترین عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے مجسمے کو میوزیم سے ہٹانے کی استدعا کی ہے۔

خاتون وکیل عنبرین قریشی نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ لاہور کے عجائب گھر میں شیطان کی شکل کا ایک مجسمہ نصب کیا گیا ہے جسے دیکھ کر بچے ڈر جاتے ہیں۔

خاتون وکیل نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ عدالت اس شیطانی مجسمے کو نصب کرنے پر عجائب گھر کی انتظامیہ سے وضاحت طلب کرے اور اس مجسمے کو وہاں سے ہٹانے کا حکم دے۔

لاہور کے عجائب گھر کے صحن میں یہ مجسمہ چند دن پہلے ہی نصب کیا گیا ہے۔

سرمئی رنگ کے اِس مجسمے کا قد کافی بڑا ہے اور اس کے ہاتھوں اور پاؤں کے ناخن نوکیلے ہیں۔ مجسمے کے دو بڑے، بڑے بڑے دانت اور دو بڑے سینگ بھی ہیں جن میں سے ایک سینگ ٹوٹا ہوا ہے۔

عجائب گھر آنے والے لوگ اسے "شیطان کا مجسمہ" کہہ رہے ہیں۔ لیکن اسے بنانے والے آرٹسٹ ارتباط الحسن کا کہنا ہے ان کا بنایا یہ مجسمہ انسان اور جانور کی خصوصیات کا مرکب ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب انسان اپنی اصلاح چھوڑ دیتا ہے تو کتنا خوف ناک ہوجاتا ہے۔

ارتباط الحسن جامعۂ پنجاب کے شعبۂ فائن آرٹس کے آخری سال کے طالبِ علم ہیں اور انہوں نے یہ مجمسہ اپنے تھیسز کے دوران بنایا ہے۔

لاہور عجائب گھر کے ترجمان عاصم رضوان کا کہنا ہے کہ میوزیم میں پنجاب یونیورسٹی کے آرٹ کے طلبہ کی ایک نمائش منعقد ہو رہی تھی اور اسی مقصد کے لیے یہ مجسمہ دیگر مجسموں کے ساتھ میوزیم لایا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ چوں کہ مجسمے کو اس کے حجم کے باعث عمارت کے اندر رکھنے کی جگہ نہیں تھی لہٰذا اسے باہر رکھ دیا گیا ہے۔

عاصم رضوان اس خیال سے متفق نہیں کہ یہ مجسمہ بچوں کو ڈرانے کا سبب بن رہا ہے۔ بلکہ ان کا کہنا ہے کہ میوزیم میں آنے والے کچھ لوگ اس مجمسے کے ساتھ تصویریں بھی بنواتے ہیں۔

ان کے بقول یہ مجسمہ انسان کے اندر چھپے شیطان کی عکاسی کرتا ہے۔

"انسان جب اپنے رشتوں کو بھول جاتا ہے اور حیوانیت پر اُتر آتا ہے۔ جب باپ بیٹی کا، بھائی بہن کا اور جب بیٹا ماں کا رشتہ بھول کر حیوانیت پر اُتر آتا ہے یا انہیں قتل کر دیتا ہے۔ یہ مجسمہ اُن تمام کی عکاسی کرتا ہے۔"

لیکن مجسمے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے والی خاتون وکیل عنبرین قریشی کا کہنا ہے کہ لاہور کے عجائب گھر کا مقصد اس خطے کی تاریخ اور ثقافت کو محفوظ بنانا ہے اور یہ مجسمہ اس مقصد پر پورا نہیں اترتا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں عنبرین قریشی کا مؤقف تھا کہ چوں کہ یہ مجسمہ ان کے بقول نہ صرف ہماری ثقافت اور روایات کے بلکہ قدرت کے بھی خلاف ہے، اسی لیے انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ میوزیم انتظامیہ سے پوچھے کہ اس نے یہ مجسمہ نمائش کے لیے کیوں رکھا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد فرخ عرفان نے رواں ہفتے اس درخواست کی ابتدائی سماعت کی تھی جس کے دوران انہوں نے مجسمہ نصب کرنے پر چیف سیکریٹری پنجاب اور ڈائریکٹر لاہور میوزیم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کرلیا تھا۔

دورانِ سماعت فاضل جج نے کہا تھا کہ شیطان کو قابو کرنا ہے ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ شکر ہے کہ شیطان کے خلاف کوئی تو باہر نکلا۔

نیشنل کالج آف آرٹس کے سابق اُستاد اور آرٹسٹ ڈاکٹر اعجاز انور سمجھتے ہیں کہ اگر مجسمہ بٹایا گیا تو اس سے نئے آنے والے فن کاروں اور مجسمہ سازوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

ان کے بقول لاہور کا عجائب گھر مغلیہ دور کی ترجمانی کرتا ہے اور اِس وقت لاہور کو ایک ایسے نئے عجائب گھر کی ضرورت ہے جہاں جدید فن پاروں کی نمائش ممکن ہوسکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG