رسائی کے لنکس

اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کی خبر دی تو پاکستان کا ردِعمل توقع کے برعکس نکلا: اوباما


سابق امریکی صدر براک اوباما کی کتاب، 'اے پرامزڈ لینڈ'

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے اپنی نئی کتاب میں 2011 میں القاعدہ کےسربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں کاروائی کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کے لیے پاکستان کی سر زمین پر امریکی نیوی سیلز کے آپریشن کے متعلق پاکستانی قیادت کو خبر دینا ان کی توقعات کے بر عکس نسبتاً آسان رہا۔

"اے پرامزڈ لینڈ" کے نام سے شائع ہونے والی کتاب میں امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر اوباما نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے اس وقت کے نائب صدر جو بائیڈن نے اس آپریشن سے پہلے اس کی نوعیت پر مختلف سوالات اٹھائے ۔ان کے وزیر خارجہ رابرٹ گیٹس نے بھی ایسی کارروائی کی مخالفت کی۔ اس آپریشن سے ایک اتحادی ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہونا تھی۔

القاعدہ لیڈر کے خلاف زمینی آپریشن اور فضائی کارروائی میں سے کسی ایک راسے کو اختیار کرنے کے حوالے سے اوباما لکھتے ہیں کہ امریکہ ایبٹ آباد میں کسی بھی قسم کی کارروائی کرتا تو اس میں ایک اتحادی ملک سے جنگ کیے بغیر خود مختاری کی خلاف ورزی ہونا تھی۔ اور اس سے سفارتی سطح پر مفادات اور آپریشن کے حوالے سے پیچیدگیاں پیدا ہونے کے اندیشے بھی تھے۔

یکم اور دو مئی 2011 کی درمیانی شب میں کیے گئے اس آپریشن کو اوباما کی صدارت کا اہم واقعہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ امریکی عوام کے لیے ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملے کرنے والی تنظیم کے رہنما کو کیفر کردار تک پیہنچانا ایک بڑی ترجیح بھی تھی۔ اس کامیابی کے بعد 2012 کے الیکشن بھی تھے، جس میں اوباما دوسری بار امریکہ کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

ایبٹ آباد میں کیے گئے آپریشن کی کامیابی کے بعد امریکی صدر نے پاکستان کے اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کو فون کیا۔ اوباما اس گفتگو کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ زرداری نے حقیقی جذبات کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کی بیوی بے نظیر بھٹو بھی القاعدہ سے منسلک انتہا پسندوں کے ہاتھوں ماری گئی تھی۔

سابق صدر براک اوباما کی کتاب میں ان کے پہلے دور صدرارت تک کے واقعات کا ذکر ہے۔
سابق صدر براک اوباما کی کتاب میں ان کے پہلے دور صدرارت تک کے واقعات کا ذکر ہے۔

سابق صدر اوباما نے اپنی کتاب میں تحریرکیا:

"میں سمجھتا تھا کہ مشکل سے دوچار پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے یہ ایک مشکل کال ہو گی کیونکہ انہیں پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کے بعد بہت سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تاہم جب میں نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے مجھے مبارک باد دی اور اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "اس کا کچھ بھی ردعمل ہو یہ ایک بہت اچھی خبر ہے۔"

اوباما کی ہدایت پر اس وقت کے امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیک ملن نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے فون پر بات چیت کی۔ اوباما لکھتے ہیں کہ یہ گفتگو شائستہ رہی، لیکن جنرل کیانی نے کہا کہ امریکہ کو جلد از جلد اس کارروائی کے متعلق واضح طور پر بات کرنی چاہیے تاکہ پاکستان میں عوامی ردعمل کو قابو میں رکھا جاسکے۔

اس سے پہلے آپریشن کا فیصلہ کرنے کے احوال پر اوباما اپنی یاداشت میں کہتے ہیں کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس وقت تک دستیاب اطلاعات ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے پر کارروائی کرنے کے لیے کافی تھیں۔ اور اس آپریشن کو خفیہ رکھا گیا۔

ایبٹ آباد کے مضافات میں وہ احاطہ جہاں امریکی سیلز کی کارروائی میں اسامہ بن لادن مارا گیا تھا۔ یہ عمارت بعد میں مسمار کر دی گئی تھی۔
ایبٹ آباد کے مضافات میں وہ احاطہ جہاں امریکی سیلز کی کارروائی میں اسامہ بن لادن مارا گیا تھا۔ یہ عمارت بعد میں مسمار کر دی گئی تھی۔

اوباما لکتھے ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو اس آپریشن میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

وہ لکتھے ہیں کہ پاکستان کی حکومت نے بہت سی انسداد دہشت گردی کی کاروائیوں میں امریکہ کا ساتھ دیا اور امریکی افواج کے لیے افغانستان میں ایک انتہائی اہم راہداری بھی فراہم کی، لیکن اوباما کتاب میں یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ پاکستان کی فوج میں خصوصاً اس کی انٹیلی جنس سروسز میں کچھ عناصر کے طالبان سے اور شاید القاعدہ سے بھی رابطے تھے۔

"اس امر سے کہ ایبٹ آباد کا (اسامہ بن لادن کا) کمپاونڈ پاکستان آرمی کے امریکی ویسٹ پوائنٹ جیسی اہم جگہ سے کچھ ہی میل کے فاصلے پر تھا۔ اس با ت کا احتمال تھا کہ اگر پاکستانیوں کو کچھ بھی بتایا گیا تو وہ ہمارے ٹارگٹ کے علم میں آ سکتا تھا۔"

اوباما کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی تلاش ان کے لیے بحیثیت صدر ایک اہم ترجیح تھی اور وہ اس پر با قاعدہ اپ ڈیٹ حاصل کرتے تھے۔

اوباما نے اپنی کتاب میں بھارت اور اس وقت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ ایک مقام پر وہ تحریر کرتے ہیں کہ پاکستان مخالف دشمنی کو ہوا دینا بھارت میں قومی یکجہتی پیدا کرنے کا تیزترین طریقہ ہے۔

آٹھ سال صدر رہنے والے اوباما اپنی یاداشت کو دو حصوں میں لکھ رہے ہیں۔ پہلی جلد کے سات ابواب ہیں، جس میں انہوں نے اپنی زندگی کے بچپن سے لے کر اپنے پہلے دور صدارت کے اہم واقعات قلم بند کیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG