رسائی کے لنکس

logo-print

آرکٹک میں 2019 موجودہ صدی کا گرم ترین سال قرار


فائل فوٹو

ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 1900 کے بعد رواں سال آرکٹک یعنی قطب شمالی اور اس سے ملحقہ علاقوں میں رواں سال دوسرا گرم ترین سال ثابت ہوا ہے۔ جس کے بعد درجہ حرارت میں بڑھنے سے سطح سمندر میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

یو ایس نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایجنسی کی منگل کو شائع ہونے والی آرکٹک رپورٹ کے مطابق قطب شمالی میں اس سال نہ صرف کم برف باری ہوئی بلکہ درجہ حرارت بڑھنے سے برف بھی تیزی سے پگھل رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق قطب شمالی کے پورے خطے میں پچھلے چھ سال گرم ثابت ہوئے۔ ان میں بھی سال 2019 گرم ترین سال تھا۔

رپورٹ کے مطابق 1990 کی دہائی سے قطب شمالی دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔ پچھلے سال ستمبر سے رواں سال ستمبر تک درجہ حرارت میں 1 اعشاریہ 9 ڈگری کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جو سال 1981 سے 2010 تک کی مدت تک کے دوران ریکارڈ کی جانے والی شرح سے زیادہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے اس سال موسم گرما کے اختتام پر برف باری کی پیمائش کی گئی جو گزشتہ 41 سالوں کے مقابلے میں دوسری مرتبہ کم ترین رہی۔ اس سے قبل 2007 میں بھی کم برف باری ہوئی تھی۔

ڈارٹ ماؤتھ انجینئرنگ کے ایک پروفیسر ڈان پیرووچ جو اس رپورٹ کے شریک مصنف ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ برف باری اور درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے اور کچھ سال کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ البتہ 2007 کے بعد سے درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف سمندری برف کی مقدار ہی کم نہیں ہو رہی بلکہ گرین لینڈ پر برف بھی تیزی سے پگھل رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہر سال صرف گرین لینڈ میں برف پگھلنے سے سمندر کی سطح میں اعشاریہ 7 ملی میٹر اضافہ ہوتا ہے۔

گرین لینڈ میں انٹارکٹکا کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی برف کی چادر موجود ہے جو آہستہ آہستہ پگھل رہی ہے۔

سائنسی جریدے نیچر کے ایک مطالعے کے مطابق 1992 کے بعد سے اب تک 3 اعشاریہ 8 ٹریلین ٹن برف کم ہوئی ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر گرین لینڈ کی تمام برف پگھل جاتی ہے تو اس سے دنیا کے سمندروں کی سطح میں 7 اعشاریہ 4 میٹر تک اضافہ ہو جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG