رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ میں ٹوائلٹ رولز کی شدید قلت، لوٹ مار کی وارداتیں


ہانگ کانگ میں اِن دنوں ٹوائلٹ رولز کی شدید قلت ہے اور معمولی ٹوائلٹ رولز بھی کسی مہنگی اور قیمتی شے سے کم تصور نہیں کیے جا رہے۔

قلت کے باعث ہانگ کانگ میں ہتھیاروں کے زور پر ٹوائلٹ رولز لوٹنے اور چوری کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔

فرانس کے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اتوار کی رات ہزاروں کی تعداد میں ٹوائلٹ رولز سپر مارکیٹس سے چوری کر لیے گئے جب کہ ایک اور واقعے میں چاقو بردار شخص نے ٹوائلٹ رولز کی ڈیلیوری پر مامور ایک شخص کو ڈرا دھمکا کر اس سے ٹوائلٹ رولز چھین لیے۔

ہانگ کانگ کے مختلف بازاروں میں کرونا وائرس کے سبب ٹوائلٹ رولز کی سپلائی بر وقت نہیں ہو پا رہی۔ اس لیے ٹوائلٹ رولز، ہینڈ واش، سینیٹائزرز اور صفائی کے لیے استعمال ہونے والی دیگر اشیا کی شدید قلت ہے۔

حکومت نے یقین دہائی کرائی تھی کہ کرونا وائرس کے پھیلنے سے سپلائی متاثر نہیں ہو گی لیکن صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔

اشیائے خور و نوش اور صفائی کے لیے استعمال ہونے والی اشیا کی قلت کی خبروں سے عوام تشویش میں مبتلا ہیں۔ لوگوں نے اپنے اپنے گھروں میں ٹوائلٹ رولز سمیت دیگر اشیا کا ذخیرہ کر لیا ہے۔

ادھر معمولی ٹوائلٹ رولز کی چوری اور ڈکیتی کی خبریں عوام اور میڈیا کے لیے دلچسپی کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ ٹی وی چینلز ان واقعات کو مسلسل رپورٹ کر رہے ہیں اور مختلف لوگوں، پولیس اور راہ گیروں کے انٹرویوز نشر کیے جا رہے ہیں۔

تاہم پولیس نے چوروں کا تعاقب کرتے ہوئے اُنہیں گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے۔

وائلٹ پیپرز کی قلت کا یہ عالم ہے کہ بیشتر سپر اسٹورز پر یا تو رولز دستیاب نہیں یا جہاں ہیں وہاں خریداروں کی لائنیں لگی ہیں اور لوگوں کو کئی کئی گھنٹے تک ان لائنوں میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔

ہانگ کانگ میں کرونا وائس کے اب تک 57 کیسز سامنے آچکے ہیں جس کے بعد ماسک کی قلت بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ چین میں کرونا وائرس پھیلنے کے سبب ہانگ کانگ میں شدید خوف و ہراس ہے۔ جس کی وجہ ماضی میں پھیلنے والی مہلک بیماری سارس ہے جس نے 2003 میں وبائی صورت اختیار کر لی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG