رسائی کے لنکس

logo-print

ہتھیاروں کی خریداری میں بھارت پہلے، پاکستان تیسرے نمبر پر: رپورٹ


سویڈن میں قائم ’اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ نے رپورٹ میں کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان اور بھارت نے اپنی فضائی صلاحیت کو بڑھانے پر خطیر سرمایہ خرچ کیا۔

سویڈن میں قائم تحقیقاتی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ ’سپری‘ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2004ء سے 2008ء کے مقابلے میں 2009ء سے 2013ء کے درمیان بھارت کی طرف سے اسلحہ کی خریداری میں 111 فیصد اضافہ ہوا جن میں سے 75 فیصد اسلحہ روس سے درآمد کیا گیا۔

’سپری‘ کی رپورٹ میں کہا کہ بھارت کی اسلحہ کی درآمدات دوسرے اور تیسرے نمبر پر اسلحہ کے خریدار ممالک چین اور پاکستان سے تین گنا زیادہ ہیں۔

عالمی سطح پر روایتی اسلحے کی خرید و فروخت میں گزشتہ پانچ سالوں میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اسلحہ بیچنے والے پانچ بڑے ممالک امریکہ، روس، جرمنی، چین اور فرانس ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 47 فیصد اسلحہ کی خرید و فروخت ایشیا میں ہوئی اور حالیہ برسوں میں امریکہ کے کئی ایشیائی ممالک سے دفاعی تعلقات میں وسعت آئی ہے۔

کچھ عرصہ قبل تک چین اسلحہ درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک تھا، لیکن اب اس کی اندرون ملک اسلحہ کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اُس کا اس شعبے میں دوسرے ممالک پر انحصار کم ہوا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان کی طرف سے ہتھیاروں کی درآمد میں 119 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان نے 54 فیصد ہتھیار چین سے جب کہ 27 فیصد امریکہ سے خریدے۔



’سپری‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان اور بھارت نے اپنی فضائی صلاحیت کو بڑھانے پر خطیر سرمایہ خرچ کیا۔

جوہری صلاحیت کے حامل پڑوسی ممالک پاکستان اور بھارت کی طرف سے ہتھیاروں کی خریداری میں اضافے سے متعلق رپورٹ پر پاکستان میں قانون سازوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کو اپنی عسکری صلاحیت میں اضافے کی بجائے وسائل عوام کی فلاح پر خرچ کرنے چاہئیں۔

پاکستان کی قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین اور حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ملکوں کو اپنے وسائل غربت کے خاتمے پر صرف کرنے چاہیں۔ تاہم شیخ روحیل اصغر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو خطے میں عسکری استحکام کے لیے مجبوراً ہتھیاروں کی درآمد پر وسائل خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

’’پاکستان نے اپنے دفاع کے لیے کچھ کرنا ہے۔۔۔۔ لیکن (دونوں) حکومتوں کی سطح پر ایسے حالات ہونے چاہیں تاکہ یہ جو وسائل آپ خرچ کر رہے ہیں وہ (پیسے) عوام کی فلاح پر لگائیں۔‘‘

تجزیہ کار رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ ’’یہ جو رجحان اسٹاک ہوم انسٹیویٹ کی سالانہ رپورٹ سامنے آیا ہے وہ بڑا خطرناک ہے، اور یہ ایسے وقت سامنے آیا جب ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی غربت میں کوئی خاص کمی نہیں آئی اور روز گار کے مواقع بھی ایسے ہی ہیں جو پہلے تھے اور افراط زر اور مہنگائی میں بھی دونوں ملکوں میں اضافہ ہوا ہے‘‘۔

تاہم رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات ہی محض ہتھیاروں کی خریداری کی وجہ نہیں ہیں۔

’’میں اس کو مقابلے کی فضا نہیں سمجھتا، دونوں کے مقاصد مختلف ہیں، ہندوستان تو اس خطے میں بہت بڑی طاقت کی طور پر اُبھرنا چاہتا ہے اور کا خریدا گیا اسلحہ بہت مہنگا ہے، خصوصاً نیوی کے لیے اور ائیر فورس کے لیے اور جو میزائل کا سسٹم ہے۔۔۔۔۔ پاکستان میں (ہتھیاروں کی درآمد) خصوصاً اس لیے بڑھی ہے کیوں کہ ہماری دہشت گردی کے خلاف جو جنگ ہے اس کے لیے روایتی ہتھیاروں کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘

حالیہ برسوں میں پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت کی جانب سے بھی ایسے بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ دونوں ملکوں کو اپنے تنازعات حل کر وسائل اور توجہ عوامی فلاح و بہبود پر دینی چاہیئے۔

بھارت نے روس سے 222 میں سے 90 ’ایس یو-30 ایم کے آئی‘ لڑاکا جب کہ 45 میں سے 27 ’ایم آئی جی۔ 29 کے‘ لڑاکا جہاز بھی خریدے۔ بھارت نے فرانس سے میراج جب کہ روس سے
مزید ’ایم آئی جی۔29ایس ایم ٹی‘ لڑاکا جہاز درآمد کرنے کے لیے منتخب کر رکھے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے چین سے 42 جے ایف تھنڈر لڑاکا جہاز حاصل کیے جب کہ مزید 100 ایسے ہی جہازوں کے حصول کا آرڈر دے رکھا ہے۔

پاکستان نے امریکہ سے 18 ایف سولہ طیارے حاصل کیے جب کہ اردن سے 13 استعمال شدہ ایف سولہ طیارے درآمد کرنے کا آرڈر دیا۔
XS
SM
MD
LG