رسائی کے لنکس

logo-print

'اصل بات جنرل باجوہ سے ہوگی'


فائل فوٹو

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 22 جولائی کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ خوش اُمیدی کا اظہار اچھی بات ہے لیکن اس ملاقات کے بارے میں خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ امریکہ تعاون فراہم کرنے کے بجائے تعاون طلب کرے گا۔

ولسن سینٹر کے تجزیہ کار مائیکل کوگل مین کہتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کو افغانستان کی عینک سے دیکھتا ہے اور افغانستان میں امریکہ کو پاکستان کا تعاون درکار ہے۔ امریکی فوج کے لیے سپلائی لائن اب بھی پاکستان سے گزرتی ہے۔

مائیکل کوگل مین کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا ہے لیکن یہ سمجھنا غلط ہو گا کہ عمران خان کے دورے سے تعلقات میں گرم جوشی آ جائے گی اور امریکہ ماضی کی طرح مختلف شعبوں میں تعاون کا اعلان کرے گا۔ میرے خیال میں ایسا نہیں ہوگا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سفیر شاہد امین نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔ اب ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اپنے رویے پر نظر ثانی کی ہے کیونکہ انہوں نے خود وزیرِ اعظم عمران خان کو امریکہ آنے کی دعوت دی ہے۔ اس ملاقات کا چاہے کوئی فوری نتیجہ برآمد نہ ہو لیکن یہ اس لیے اہم ہے کہ پہلے تعلقات خرابی کی طرف جارہے تھے اور اب بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔

شاہد امین نے اس سوال کہ صدر ٹرمپ نے عمران خان کو مدعو کیا ہے تو جنرل قمر جاوید باجوہ کیوں ساتھ آ رہے ہیں؟ کے جواب میں کہا کہ امریکہ کو جن دو معاملات سے دلچسپی ہے، ان میں ایک دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دوسرا افغانستان میں امن کا قیام ہے۔ ان دونوں میں پاک فوج کا ایک کردار بنتا ہے۔ جنرل باجوہ اس لیے امریکہ جا رہے ہیں کہ امریکی حکام کی اچھی طرح تسلی کروا سکیں۔

مائیکل کوگل مین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ جنرل باجوہ امریکی حکام کو سکیورٹی سے متعلق یقین دہانی کروانے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’بلاشبہ بیشتر توجہ کا مرکز عمران خان کی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوگی لیکن اصل لین دین غالبا وہاں ہوگا جہاں جنرل باجوہ امریکی حکام سے ملیں گے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ امریکی حکام عوامی سطح پر اور بند کمروں میں پاکستانی عہدے داروں کو بار بار بتا چکے ہیں کہ پہلے جیسے تعلقات اب تب ہی ممکن ہیں کہ پاکستان افغانستان کے امن عمل میں بھر پور تعاون جاری رکھے اور اپنی سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرے۔

شاہد امین نے کہا کہ امریکی امداد کے بارے میں تو کہا جا چکا ہے کہ وہ ماضی کا قصہ ہے۔ لیکن امریکہ کوالیشن سپورٹ فنڈ کے نام پر جو رقم دیتا تھا، وہ پاکستان کے نقصانات کی تلافی ہوتی تھی۔ وہ امداد نہیں ہے اور امریکہ کو اسے بحال کر دینا چاہیے۔

پاکستان میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کو گرفتار کیا جا رہا ہے جبکہ مبینہ طور پر میڈیا کو دباؤ کا سامنا ہے۔ کیا اس دورے میں امریکی حکام اس بارے میں بات کریں گے؟ کوگل مین نے اس سوال پر کہا کہ ٹرمپ عمران ملاقات میں ایسی باتیں نہیں ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطح پر گفت و شنید افغانستان کے امن عمل تک محدود رہے گی۔ نچلی سطح کے مذاکرات میں ممکن ہے کہ محکمہ خارجہ کے حکام تشویش کا اظہار کریں لیکن کوئی قابل ذکر بات نہیں ہوگی۔

کوگل مین نے واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کشمیر کے معاملے پر بھی کوئی بات کرنا پسند نہیں کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG