رسائی کے لنکس

ڈیرہ اسماعیل خان: شدت پسندوں سے جھڑپ میں فوجی افسر ہلاک

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں عسکریت پسندوں کا ایک گروہ گزشتہ کئی برسوں سے سرگرم ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلعے ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان ایک جھڑپ میں پاک فوج کے ایک افسر ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بدھ کی صبح جاری کیے جانے والے ایک بیان میں ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی کے علاقے کولائی میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ کی تصدیق کی ہے۔

تاہم اس جھڑپ کے بارے میں مزید معلومات ابھی تک حاصل نہیں ہوسکی ہیں۔

بیان کے مطابق جھڑپ میں مرنے والے فوجی افسر میجر اسحاق کی نمازِ جنازہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ادا کی گئی جس میں دیگر اعلیٰ افسران کے علاوہ بری فوج کے جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق میجر اسحاق کا تعلق پنجاب کے ضلع خوشاب سے ہے اور ان کے لواحقین میں بیوہ اور ایک سال کا بیٹا شامل ہیں۔

ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں عسکریت پسندوں کا ایک گروہ گزشتہ کئی برسوں سے سرگرم ہے اور اس گروہ سے تعلق رکھنے والے جنگجو ماضی میں بھی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

سنہ 2013 میں خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیرِ قانون اسرار اللہ خان گنڈاپور بھی، جن کا تعلق کلاچی سے تھا، عیدالاضحٰی کے موقع پر اپنے حجرے میں کیے جانے والے ایک خودکش حملے کا نشانہ بنے تھے۔

دریں اثنا ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں منگل کی شام فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والی ایک اور شخصیت صابر حسین کو نامعلوم حملہ آوروں نے گولیاں مار کر قتل کردیا۔

گزشتہ 10 روز کے دوران صابر حسین شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والی تیسرے شخص ہیں جو ڈیرہ اسماعیل خان میں نا معلوم حملہ آوروں کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

اس سے قبل حملہ آوروں نے سید ثمر عباس کو 13 نومبر اور عقیل حسین کو 18 نومبر کو گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG