رسائی کے لنکس

سانحہ آرمی پبلک اسکول: عدالتی کمشن نے بیانات قلم بند کر لیے


آرمی پبلک اسکول سانحے کو پاکستان میں دہشت گردی کی بدترین کارروائی قرار دیا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو)
آرمی پبلک اسکول سانحے کو پاکستان میں دہشت گردی کی بدترین کارروائی قرار دیا جاتا ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم عدالتی کمشن نے گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کا سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔

دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 132 طلبہ سمیت 141 افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

اس واقعے کو پاکستان میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

عدالتی کمشن کے ترجمان کے مطابق کمشن بیانات کا جائزہ لے کر قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد اپنی سفارشات مرتب کرے گا۔ جب کہ اس دوران واقعے کی تحقیقات کرنے والے اداروں کے ذمہ داروں کو دوبارہ بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

کمشن گواہوں کے بیانات پر مبنی رپورٹ مرتب کر کے اسے مزید کارروائی کے لیے سپریم کورٹ کے سپرد کرے گا۔

عدالتی کمشن کب بنا تھا؟

ساںحہ آرمی پبلک اسکول کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمشن گزشتہ سال اکتوبر میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے حکم پر تشکیل دیا گیا تھا۔ کمشن تشکیل دینے کے لیے واقعے میں ہلاک ہونے والے طلبا اور اساتذہ کے لواحقین نے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی تھی۔

حکومت کے خلاف احتجاج اور عدالتی کمشن کے ذریعے تحقیقات کے مطالبے پر لواحقین میں اختلاف رائے تھا۔ تاہم سپریم کورٹ کی ہدایت پر جوڈیشل کمشن تشکیل دیے جانے کے فیصلے کے بعد ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین نے رضاکارانہ طور پر اپنے بیانات قلمبند کروائے تھے۔

سپریم کورٹ نے 19 اکتوبر 2018 کو پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس محمد ابراہیم خان کو عدالتی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی تھی۔ کمشن نے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین، اسکول ملازمین سمیت سیکورٹی اداروں کے نمائندوں کے بھی بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔

دہشت گردی کی اس کارروائی کے بعد حکومت پاکستان نے فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا تھا۔
دہشت گردی کی اس کارروائی کے بعد حکومت پاکستان نے فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا تھا۔

کن افراد کے بیانات ریکارڈ کیے گئے؟

عدالتی کمشن کے ترجمان کے مطابق دوران تحقیقات سانحے کے وقت پشاور میں اعلٰی فوجی عہدوں پر فائز افسران کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے 11 فروری 2019 کو وزارت دفاع کو خط لکھا گیا۔ جس کے بعد اس دوران اہم عہدوں پر فائز فوجی افسران نے بھی اپنے بیانات قلمبند کروائے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کمشن نے اب تک 135 افراد کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں۔ جن میں سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹینینٹ جنرل(ریٹائرڈ) ہدایت الرحمان، ڈائریکٹر جنرل فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) میجر جنرل انعام حیدر ملک، آرمی میڈیکل کور کے بریگیڈیئر مدثر اعظم اور بریگیڈیئر عبدالنعیم بھی شامل ہیں۔

میجر جنرل انعام حیدر واقعے کے وقت بریگیڈیئر تھے اور سانحے کی ابتدائی تحقیقاتی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔

فوجی حکام کے علاوہ خیبر پختونخوا انتظامیہ کے اعلٰی عہدوں پر فائز افسران نے بھی اپنے بیانات ریکارڈ کروائے ہیں۔ ان میں سابق انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی، سابق سیکرٹری داخلہ اختر علی شاہ، انسداد دہشت گردی پولیس کے سربراہ اعظم خان شنواری بھی شامل ہیں۔

سانحے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین تحقیقات سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
سانحے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین تحقیقات سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

سانحے کے بعد پاکستان کے اہم فیصلے

سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں اور فوجی قیادت کے مشترکہ اجلاس کے بعد اہم نوعیت کے فیصلے کیے تھے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اس حملے کے بعد کہا تھا کہ اب اچھے اور برے طالبان کی بجائے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔

پاکستان نے سزائے موت پر عمل درآمد شروع کرتے ہوئے مختلف مجرموں کو پھانسی دینے کا عمل بھی شروع کر دیا تھا۔ جب کہ پاکستان کی پارلیمان نے فوجی عدالتوں کے قیام کی بھی منظوری دے دی تھی۔

فوجی عدالتوں کے ذریعے دہشت گردی کے الزامات ثابت ہونے پر 57 مجرموں کو پھانسی دی گئی جب کہ آرمی پبلک اسکول کے مبینہ سہولت کاروں میں سے چند کو بھی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

کچھ عرصہ قبل پاکستانی حکام کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے انٹرویو کو نشر کرنے پر اے پی ایس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

لواحقین نے مطالبہ کیا تھا کہ ایسے لوگوں کو ٹی وی پر دکھانے کی بجائے پھانسی دے دینی چاہیے۔

سانحے میں ہلاک ہونے والے بچوں اور اساتذہ کے عزیز و اقارب وقتاً فوقتاً اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے ایک تنظیم کی بھی بنیاد رکھی تھی جو بعد ازاں اختلافات کا شکار ہو گئی تھی۔

والدین کا مطالبہ تھا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کروا کر اس گھناؤنے واقعے میں ملوث افراد کو کڑی سزا دی جائے۔ عدالتی کمشن کے قیام کا لواحقین نے خیرمقدم کیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ اس کی سفارشات پر کتنا عمل ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG