رسائی کے لنکس

logo-print

ارسلان افتخار کیس کی سماعت اور ملک ریاض کی پریس کانفرنس ہلچل مچا گئی


پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کاایک اہم ترین ’ارسلان افتخار از خود نوٹس کیس‘منگل کوملک بھر میں ہلچل مچا گیا ۔ سہ پہر کو سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت میں اس کیس کی سماعت ہوئی جس میں مقدمے کے اہم کردار اور ارب پتی تاجر ملک ریاض نے اپنا تحریری جواب عدالت میں داخل کرایا جس کے بعد سماعت جمعرات 14جون تک ملتوی کردی گئی جبکہ شام کے اوقات میں ملک ریاض کی پریس کانفرنس اس وقت انوکھی اور ’یادگار‘ بن گئی جب انہوں نے توہین عدالت کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے سرعام چیف جسٹس پر الزامات لگائے۔

اس کانفرنس میں انہوں نے اپنے ہاتھوں میں قران کریم کا نسخہ بھی ہاتھوں میں اٹھارکھا تھاجس سے یہ تاثر دینا مقصود تھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں حلفیہ کہہ رہے ہیں ۔

ارسلان افتخار کیس کی سماعت
ارسلان از خود نوٹس کیس کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی ۔ سماعت کے موقع پر ملک ریاض حسین ، علی احمد ریاض اور ڈاکٹر ارسلان بھی موجود تھے ۔ ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے اپنے موکل کا بیان پڑھ کر سنایا ۔ زاہد بخاری نے کہا کہ از خود نوٹس انسانی حقوق کی پامالی پر لیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس کی علیحدگی کے بعد نیا بینچ تشکیل دینا ضروری تھا۔

اس موقع پر جسٹس جواد نے استفسار کیا کہ الزامات کے حوالے سے استفسار کیا ۔ ان کا یہ بھی کہناتھا کہ ضرورت پڑی تو ارسلان کے اکاوٴنٹ کی تفصیلات منگوائیں گے۔

اس موقع پر ملک ریاض نے کہا کہ ارسلان نے رقم کے بدلے عدالت سے ریلیف کی یقین دہانی کرائی تاہم ریلیف نہیں ملا۔ جسٹس جواد نے استفسار کیا کہ کیا یہ وعدے ملک ریاض سے کئے گئے۔جس پر زاہد بخاری نے بتایا کہ یہ وعدے ارسلان نے ملک ریاض کے داماد سلمان سے کئے تھے۔

ملک ریاض نے کہا کہ ارسلان نے سلمان اور انہیں دھوکا دیا اور نقصان پہنچایا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ یقین دہانی سلمان کو کرائی گئی تو ملک ریاض سے کیا دھوکا ہوا۔ فراہم کردہ ریکارڈ میں ملک ریاض نے ادائیگی نہیں کی، ادائیگیاں سلمان احمد کے کریڈٹ کارڈ سے ہوئیں۔

سماعت کے بعد زاہد بخاری نے صحافیوں کو بتایا کہ تفصیلی جواب عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ اگلا مرحلہ تفتیش کا ہے اور تفتیش کا کام عدالت نہیں تحقیقاتی ادارے کرتے ہیں اور اس کے کیلئے میمو طرز کا کمیشن بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لارجر بینچ سے متعلق استدعا کی گئی ہے ۔ آئندہ سماعت پر معلوم ہوگا کہ عدالت اس کیس میں کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عدالت کہے کہ اب اس معاملے پر مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ۔

’یادگار پریس کانفرنس‘۔۔چیف جسٹس سے تین سوالات
ارسلان افتخار کیس کے اہم کردار ملک ریاض نے منگل کی شام ایک اہم پریس کانفرنس بھی کی جسے اس حوالے سے اپنی نوعیت کی انوکھی پریس کانفرنس کہاجارہا ہے جس میں انہوں نے توہین عدالت کی بھی پروا ہ نہیں کی اور چیف جسٹس سے وہ تین سوالا ت کیے جن کی گونج ایک ’یادگار ‘بن کر دیر تک کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی روپ میں سنائی دیتی رہے گی۔

ملک ریاض کا پہلاتھا کہ ”چیف جسٹس قوم کو بتائیں کہ رات کے اندھیرے میں ان کی اور میری کتنی ملاقاتیں ہوئیں ؟جس میں سپریم کورٹ کے ایک اور جج بھی شریک تھے۔ چیف جسٹس نے میڈیا پر خبرآنے کے بعد از خود نوٹس لیا ۔ ۔جبکہ چیف جسٹس یہ بتائیں کہ انہیں اس کیس کا کب سے پتہ تھا ، تو انہوں نے پہلے از خود نوٹس کیوں نہیں لیا ؟چیف جسٹس اس سوال کا جواب بھی دیں کہ احمد خلیل کے گھر پر ان کی اور چیف جسٹس کی کتنی ملاقاتیں ہوئیں ۔“

ملک ریاض کا کہنا تھا کہ میں نے چیف جسٹس پر کبھی الزام نہیں لگایا ، چیف جسٹس کو بھی میرا کوئی مقدمہ نہیں سننا چاہیے تھا ۔میں آج بھی چیف جسٹس کی عزت کرتا ہوں ۔ ایک بزنس مین ہمیشہ تنازعات سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس معاملے کے بعد ان کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے لہذا وہ جیل جانے سے بھی نہیں ڈرتے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ چیف جسٹس نے ارسلان کیس میں ثبوت دیکھنے سے کیوں انکار کیا۔یرغمالی کی طرح رشوت دینے اور تاوان دینے میں فرق ہے ۔ مجھے دیوار سے کیوں لگایا جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ میں آج انصاف خریدنے عدالت میں پیش نہیں ہوا بلکہ میں رات کے اندھیرے میں ہونے والی ملاقاتوں کا حساب مانگ رہا ہوں ۔ میں نے 16 سال میں پانچ نیب سربراہان کا سامنا کیا۔ پنجاب میں چوہدری نثار ہمیں مار رہا ہے اور یہاں یہ۔ ملک ریاض نے کہا کہ وقت آنے پر وہ مزید اہم انکشافات کریں گے۔

XS
SM
MD
LG